بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
مساجد میں بچوں کو پڑھانے کا حکم
سوال
یہاں کراچی میں کچھ لوگ مساجد میں بچوں کو قرآن کریم اورکچھ دینی کتب کی درس دیتے ہیں اور اس کے عوض بچوں سے فیس لیتے ہیں شرعاً یہ کیسا ہے؟
جواب
جو جگہ مسجد کے لیے وقف کر دی جائے ، اس کا استعمال مسجد کے مقاصد تک محدود رہے گا ۔کیونکہ کوئی جگہ جب مسجد شرعی بن جاتی ہے تو وہ تحت الثری سے لے کر آسمان تک مسجد کے حکم میں شمار ہوتی ہے ۔چنانچہ بعد میں مسجد کو اس طرح مستقل مدرسہ بنانا جائز نہیں کہ اس میں نماز باجماعت ترک ہو جائے ،تاہم اگر درس وتدریس مسجد کے آداب کا لحاظ رکھ کر کیا جائے اور نماز کے وقت جماعت بھی ادا کی جائے تو اس کی گنجائش ہے ۔ اور اس پر اجرت لینا جائز ہے ۔
صورت مسئولہ کے مطابق مسجد كے تقدس اور احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم اور دینی کتب پڑھانے کی گنجائش ہے، اور اس پر اجرت لینا بھی جائز ہے ۔
البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه والأصح أنه لا يجوز.( الفتاوى الهندية، كتاب الوقف،الباب الثاني فيمايجوز وقفه، ج:٢،ص:٣٦٢)
أما للتذكير أو للتدريس فلا لأنه ما بني له وإن جاز فيه...ويجوز الدرس في المسجد وإن كان فيه استعمال اللبود والبواري المسبلة لأجل المسجد.(البحر الرائق، شروط الواقفين،فصل كان إلى المسجد مدخل من دار موقوفة، ج:٥،ص:٢٧٠)
و تعليم الصبيان فيه بلا أجر، وبالأجر يجوز.( الفتاوى البزازية على هامش الهندية، كتاب الكراهية،باب نوع فى المسجد، ج:٦،ص:٣٥٧)