بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بيوی کو "میں تم پہ تھوکتا بھی نہیں" کہنا


سوال

یہ سوال میں نے بہت سارے علماء سے پوچھا لیکن مجھے مختلف جوابات ملے،سوال یہ ہے کہ"میں تم پہ تھوکتا بھی نہیں" اگر شوہر اپنی بیوی کو یہ جملہ کہے تو طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ اورکیا یہ جملہ کنائی الفاظ کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں؟

جواب

طلاق واقع ہونے کے لیے ضروری ہے کہ شوہریا تو صریحی الفاظ استعمال کرے یا ایسے کنائی الفاظ استعمال کرے جو طلاق پردلالت کرتے ہوں، چنانچہ اگر طلاق دینے والانہ صریحی الفاظ استعمال کرے اور نہ ایسے کنائی الفاظ جو طلاق پر دلالت  کرتے ہوں، بلکہ اس کے علاوہ کوئی گالی گلوچ کرے یا نازیبا الفاظ استعمال کرے تو اس سے کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔

 صورت مسئولہ کے مطابق شوہر کا بیوی سے یہ جملہ  کہنا  کہ "میں تم پہ تھوکتا بھی نہیں"  نہ طلاق کے صریحی الفاظ ہیں اورنہ کنائی الفاظ،بلکہ محض تحقیرآمیز کلمات ہیں اس لیےان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔

 

(قوله ‌وركنه ‌لفظ ‌مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية۔ (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الطلاق، ركن الطلاق، ج:3، ص:230)

‌وألفاظه: صريح، وملحق به، وكناية ۔۔۔۔ ‌وركنه ‌لفظ ‌مخصوص خال عن الاستثناء۔ (الدرالمختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الطلاق، ص:205)

إذا ‌قال ‌لا ‌أريدك أو لا أحبك أو لا أشتهيك أو لا رغبة لي فيك فإنه لا يقع وإن نوى في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في البحر الرائق. (الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق، ج:1، ص:375)


فتویٰ نمبر : 6990/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور