بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
یمین منعقدہ پر کفارہ
سوال
میں راستے پر جارہا تھاجب دور سے دیکھا تو میں نے اپنے شاگردوں کا گمان کرتے ہوئے قسم کھائی کہ" ان کو نماز پڑھنے کا کہوں گا"پھر وہ قریب پہنچےتو وہ میرے شاگرد نہیں تھےتو کیاایسی قسم پر کفارہ ہے یا نہیں؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے جو شخص آئندہ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر قسم کھا ئے تو اس کو یمین منعقدہ کہا جاتا ہے۔ جب کوئی اس قسم کو توڑ ڈالے تو اس پر قسم کا کفارہ لازم ہو جاتا ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق جب سائل نے اپنے شاگردوں کے گمان پر قسم کھائی کہ "ان کو نماز پڑھنے کا کہوں گا" تو چونکہ مشار الیہ وہ مخصوص لڑکے تھے اس لیے اگرچہ وہ شاگرد نہیں تھے پھر بھی ان کو نماز پڑھنے کا کہہ کر اپنی قسم پوری کرنی چاہیے تھی، لیکن چونکہ اس نے قسم پوری نہ کی ،اس لیے اس پر کفارہ لازم ہے۔
"ومنعقدة:وهو أن يحلف على أمر في المستقبل أن يفعله أو لا يفعله وحكمها:لزوم الكفارة عند الحنث كذا في الكافي۔۔۔ونوع يتخيرفيه بين البر والحنث والحنث خير من البر فيندب فيه إلى الحنث "۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الأيمان، الباب الأول:في تفسيرهاشرعا،و ركنها، وشرطها، وحكمها، ج:2، ص:57)