بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
ایک دکاندار کا دوسرے دکاندار سے موبائل لے کر کسٹمرپر فروخت کرنا
سوال
ہماری موبائل کی دکان ہے بعض اوقات کسٹمر آتےہیں ، موبائل ہماری دکان میں موجود نہیں ہوتا، تو ہم دوسری دکان سے وہ موبائل لاکر اس کو دکھاتے ہیں، اگر اس کو پسندآئے تو اس پر بیچ دیتے ہیں اگر پسند نہ آئے تو دکان والے کو واپس کر دیتے ہیں نیز وہ موبائل دکان والے سے اس کی رضامندی سے لے کر آتے ہیں، کیا اس طرح معاملہ کرنا درست ہےیا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کسی دکاندار کے پاس کسٹمرکی مطلوبہ چیز نہ ہو اور وہ دوسرے دکاندارسے وہ چیزلا کر کسٹمرپر نفع کے ساتھ فروخت کرے تو یہ شرعا جائز ہے، کیونکہ عام طور سے ایک دکاندار دوسرے دکاندار سے وہ چیز خرید لیتا ہےاگر چہ ایجاب وقبول کے صریح الفاظ استعمال نہ ہوں، چنانچہ یہ بیع تعاطی ہوتی ہے، البتہ اس میں یہ ضروری ہے کہ دونوں دکانداروں کے درمیان مبیع کی قیمت پہلے سے متعین ہو اگر مبیع کی قیمت پہلے سے متعین نہ ہو تو ایسی صورت میں بیع جائز نہ ہوگی۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر ایک دکاندار دوسرے دکاندار سے موبائل لے کر کسٹمر کو دکھائے اور دونوں دکانداروں کے درمیان موبائل کی قیمت پہلے سے متعین ہو، تو اگر دوسرے دکاندار سے کسٹمر موبائل خریدے، تو دوسرے دکاندار کا کسٹمر پر موبائل فروخت کرنا درست ہوگا، لیکن اگر کسٹمر نہ خریدے تو ایسی صورت میں پہلا دکاندار دوسرے دکاندارکو موبائل واپس لینے پر مجبور نہیں کرسکتا، البتہ اگروہ خوشی اور رضامندی سے فروخت کی گئی قیمت پر واپس لے لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔
"(هو مبادلة مال بمال ينعقد بإيجاب وقبول، بلفظي ماض وبتعاط في النفيس والخسيس)"۔(شرح الوقاية،كتاب البيع، ج:4،ص:3)
"(وأما) المبادلة بالفعل فهي التعاطي ويسمى هذا البيع بيع المراوضة وهذا عندنا... والدليل عليه قوله عز وجل {إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم} [النساء: 29] ، والتجارة عبارة عن جعل الشيء للغير ببدل وهو تفسير التعاطي"۔(بدائع الصنائع، كتاب البيوع،فصل في شرائط ركن البيع،ج:5،ص:134)
"(ومنها) أن يكون المبيع معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة.فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع"۔(بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل في شرائط الصحة في البيوع،ج:5،ص:156)
"وأما شرائط صحة الإقالة ( فمنها ) رضا المتقايلين أما على أصل أبي يوسف فظاهر؛ لأنه بيع مطلق، والرضا شرط صحة البياعات"۔(بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل في بيان ما يرفع حكم البيع، ج:5، ص:309)