بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
عشرگھر کے پھل دار درختوں میں عشر
سوال
اگر کسی کے گھر کا صحن ایک کنال کے بقدر وسیع ہو اور اس میں مختلف قسم کے پھل دار درخت ہوں مثلا:سیب ،اخروٹ ،انار اور خوبانی وغیرہ تو کیا ان درختوں کے پیداوار میں عشر واجب ہے یا نہیں؟
جواب
شریعتِ مطہرہ کی رو سے عشر یا نصف عشر عشری زمین سے حاصل شدہ پیداوار میں واجب ہوتا ہے،البتہ اگر کسی شخص کے رہائشی مکان میں پھل دار درخت ہوں تو ان میں عشر واجب نہیں ،اس لیے کہ یہ درخت گھر کے تابع ہوتے ہیں۔
صورت مسئولہ میں گھر میں موجود مختلف قسم کے پھل دار درختوں میں عشر واجب نہیں کیونکہ یہ گھر کے تابع ہوتے ہیں۔البتہ اگر گھر میں جگہ زیادہ ہو اور اس میں باغ لگا کر اس سے تجارت کی نیت ہو تو اس میں عشر واجب ہوگا ۔
رجل في داره شجرة مثمرة لا عشر فيه وإن كانت البلدة عشرية بخلاف ما إذا كانت في الأراضي.(الفتاوى الخانية على حامش الهندية، ج:1 ، ص:277)
ولو كان في دار رجل شجرة مثمرة لا عشر فيها كذا شرح المجمع لابن الملك ...وإن جعل مسلم داره بستانا فمؤنته تدور مع مائه فإن سقاه بماء العشر فهو عشري، وإن سقاه بماء الخراج فهو خراجي.(الفتاوى الهندية، کتاب الزكاة، الباب السادس في زكاة الزرع والثمار، ج:1 ، ص:186)