بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
زکوٰۃ کمیٹی کے ذریعے ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنا
سوال
ہم نے اپنی برادری کے ضرورت مند لوگوں کی ضرورت پوری کرنے اور مختلف رفاہی کاموں کے لیے ایک کمیٹی بنائی ہے ،اس حوالے سے چند مسائل کا حل مطلوب ہیں:
1۔اس کمیٹی میں چند لوگ شریک ہیں جو اپنی زکوٰۃ اس کمیٹی میں شریک ایک شخص کو دیتے ہیں جو بطور وکیل اپنے پاس ان لوگوں کی زکوٰۃ رکھتا ہے کسی بھی وقت برادری میں اگر کسی مستحق زکوٰۃ شخص کو پیسوں کی ضرورت پیش آئے تو یہ وکیل ان لوگوں کی زکوٰۃ کی رقم سے اس کی ضرورت پوری کرتا ہے ،تو کیا وکیل کے لیے زکوٰۃ ادا کرتے وقت ممبران کی تعیین ضروری ہے کہ فلاں فلاں کی زکوٰۃ ادا کر رہا ہوں یا نہیں؟
2۔ بعض اوقات کمیٹی میں زکوٰۃ کی رقم ختم ہو جاتی ہے تو یہ وکیل اپنے مال سے مستحق زکوٰۃ کی ضرورت پوری کرتا ہے اور بعد میں کمیٹی میں شریک ممبران سے اُتنی رقم وصول کر لیتا ہے تو کیا بعد میں زکوٰۃ کی رقم دینے سے ممبران کی زکوٰۃ ادا ہو گی؟
3۔کمیٹی کے ممبران نے وکیل کو اس بات کا پابند بنایا ہے کہ صرف زکوٰۃ مخصوص لوگوں کو ہی زکوٰۃ دینی ہے اگر وکیل ان لوگوں کے علاوہ کسی کو زکوٰۃ دے تو کیا ممبران کی زکوٰۃ ادا ہو گی؟
4۔ اگر وکیل کے پاس یہ زکوٰۃ کی رقم گم ہو جائے یا چوری ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ ہر صاحب نصاب شخص پر اُس کے مال میں سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے، چاہے وہ خود کسی مستحق زکوٰۃ شخص کو دے یا کسی کو اپنا وکیل بنائے جو اس کی طرف سے وہ رقم کسی مستحق زکوٰۃ کو دے دونوں صورتوں میں زکوٰ ۃ ادا ہو اجائے گی۔
1۔ لہذا کمیٹی میں شریک کسی ایک شخص کو زکوٰۃکی رقم دی جائے جو بطور وکیل ممبران کی رقم ضرورت مند وں کو دے ،تو اس صورت میں ممبران کے لیے زکوٰۃ کی رقم وکیل کو دیتے وقت نیت کرنا ضروری ہے، جبکہ وکیل کے لیے مستحق زکوٰۃ شخص کو اس رقم کا مالک بناتے وقت ممبران کا نام لے کر زکوٰۃ ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔
2۔ اگر کمیٹی میں پیسے ختم ہو جائیں اور وکیل اپنے مال سے کسی مستحق زکوٰۃ شخص کی ضرورت پوری کرے تو اس صورت میں اگر ممبران نے وکیل کو شروع سے ہی اس بات کی اجازت دی ہو کہ اگر کمیٹی میں رقم ختم ہو جائے تو تم اپنے مال سے ہماری زکوٰۃ ضرورت مند مستحق زکوٰۃ کو دے دو اور بعد میں اُتنی مقدار میں رقم ہم آپ کو دے دیں گے تواس صورت میں جب وکیل ممبران کی طرف سے زکوٰۃ ادا کرے گا تو زکوٰۃ اد ا ہو جائے گی اور اس کی اتنی مقدار میں رقم ان کے ذمے قرض ہو جائے گی،البتہ اگر ممبران نے وکیل کو پہلے سے ا س بات کی اجازت نہ دی ہو تو پھر وکیل اپنے مال سے ممبران کی طرف سے زکوٰۃ ادا نہیں کر سکتا ۔
3۔ اگر کمیٹی کے ممبران نے وکیل کو اس بات کا پابند بنایا ہے کہ زکوٰۃ صرف مخصوص لوگوں کو ہی دو گے تو وکیل کے لیے جائز نہیں ہے کہ اس کے علاوہ کسی اور کو یہ رقم دے،اگر وکیل نے مخصوص لوگوں کے علاوہ کسی اور کو زکوٰۃ دی تو ممبران کی زکوٰۃ ادا نہ ہوگی،اور وکیل ذمہ دار ہو گا۔
4۔اگر وکیل سے زکوٰۃ کی رقم گم یا چوری ہو جائے تو ممبران کی زکوٰۃ ادا نہ ہوگی ،پھر اگر وکیل نے حفاظت کرنے میں کوئی غفلت و کوتاہی نہ کی ہو تو اس پر کوئی ضمان نہیں ہو گا، اور اگر اس کی طرف سے مال کی حفاظت میں کمی کوتاہی پائی گئی ہو تو اُتنی مقدار کا ضامن ہو گا۔
قال الله تعالى:اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(التوبة،60)
إذا وكل في أداء الزكاة أجزأته النية عند الدفع إلى الوكيل فإن لم ينو عند التوكيل ونوى عند دفع الوكيل جاز كذا في الجوهرة النيرة وتعتبر نية الموكل في الزكاة دون الوكيل كذا في معراج الدراية فلو دفع الزكاة إلى رجل وأمره أن يدفع إلى الفقراء فدفع، ولم ينو عند الدفع جاز۔(الفتاوى الهندية،كتاب الزكاة،ج:1ص:171)
إذا وكل رجلا بدفع زكاة ماله ونوى المالك عند الدفع إلى الوكيل فدفع الوكيل بلا نية فإنه يجزئه؛ لأن المعتبر نية الآمر؛ لأنه المؤدي حقيقة۔(البحرالرائق،كتاب الزكاة،ج:2ص:226)
الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره"(ردالمحتارعلی الدرالمختار،مطلب فی زکوٰۃ ثمن المبیع وفاء، ج3، ص189 )
سئل عمر الحافظ عن رجل دفع إلی الآخر مالاً، فقال لہ: ”ھذا زکاة مالي فادفعھا إلی فلان“ ، فدفعھا الوکیل إلی آخر ھل یضمن؟ فقال: نعم، لہ التعیین"(الفتاوی التاتارخانیة، کتاب الزکوة، ج:3، ص:228)
ولايخرج عن العهدة بالعزل بل بالأداء للفقراء (قوله : ولايخرج عن العهدة بالعزل ) فلو ضاعت لاتسقط عنه الزكاة".۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،كتاب الزكاة،ج:2ص:270)
ولو أدى زكاة غيره بغير أمره فبلغه فأجاز لم يجز؛ لأنها وجدت نفاذا على المتصدق؛ لأنها ملكه، ولم يصر نائبا عن غيره فنفذت عليه ولو تصدق عنه بأمره جاز ويرجع بما دفع عند أبي يوسف، وإن لم يشترط الرجوع كالأمر بقضاء الدين وعند محمد لا رجوع له إلا بالشرط۔(البحرالرائق،کتاب الزکاۃ،ج:2ص:227)