بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت کا بیوی کو خلع دینا
سوال
میری بیوی نے خلع کےلیے عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا،مقدمہ میں مجھ پرجھوٹے الزامات لگائے گئے تھے کہ میں تشدد کرتا ہوں، اپنی بیوی کو نان نفقہ ادانہیں کرتا، اور حق مہر بھی ادا نہیں کیا۔جب عدالت کا نوٹس مجھے ملا تو میں عدالت میں پیش ہوا اور تحریری جواب بذریعہ وکیل جمع کروایا۔ جس میں ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں جھوٹ اور لغو پر مبنی قرار دیا۔ان سے اپنے دعوے کے حق میں ثبوت یا گواہی طلب کی جو وہ پیش نہ کرسکی۔ اصل حقائق عدالت میں تحریری شکل میں جمع کروا دیے۔ عدالت کی طرف سے دی گئی تاریخ کے مطابق میں اور میری بیوی عدالت میں پیش ہوئے،میری بیوی نے جج سے کہا کہ میں ان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ، یہ مجھےمینٹلی ٹارچر کرتاہے،اس لیے مجھے خلع چاہئے ۔جج نے مجھ سے سوال کیا آپ کیاچاہتے ہیں؟ میں نے کہا میں اپنی بیوی کو رکھنا چاہتا ہوں، اور میں نہیں چھوڑنا چاہتا ، ہمارے تین چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، ہماری علیحدگی سے ان کی نفسیات پربہت برا اثر پڑے گا،ان سے پوچھئے میری کس بات سے ان کو مینٹل ٹارچر ہوتا ہے؟ یوںمن گھڑت الزام نہ لگائے۔ مجھ پر مقدمہ میں جوالزامات لگائے گئے ہیں، وہ سب جھوٹے اور حقائق کے منافی ہیں۔میں نے کبھی مار پیٹ نہیں کی،نان نفقہ کی ذمہ داریاں بھی بھرپور اور بروقت اداکیں، اور حق مہر بھی ادا کیا ہے۔ آپ ان سے پوچھ لیجیے کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟ جج صاحب نےمیری بیوی سے پوچھا کیاآپ کو حق مہر ملا ہے؟ جس پر اُس نے اقرار کیا کہ جی ہاں اسے حق مہر کی مدمیں 50000 روپے ملے تھے۔پھر جج نے میری بیوی سے پوچھا کیا آپ اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں؟ میری بیوی نے منع کر دیا۔پھر جج نے مجھ سے دوبارہ پوچھا کیا آپ رکھنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا جی میں رکھنا چاہتا ہوں،میں بالکل نہیں چھوڑنا چاہتا۔ اس سے تو میرے تین بچوں کی زندگی بھی خراب ہو جائےگی،یہ مجھے اصل مسئلہ بتائےاور وجہ جاننا میرا حق ہے، اگر واقعی میرا کوئی قصور ہے تو میں اس کا ازالہ کرنے کو تیار ہوں۔ جس پر میری بیوی خاموش رہی، اور پھر جج نے میری بیوی کے والدسے پوچھا کیا یہ دونوں ساتھ رہ سکتے ہیں، جس پر انھوں نے صاف انکار کر دیااور میرے انکار اور بارہا منع کرنے کے باوجود جج نے کوئی مصالحتی موقع دیے بغیر میری بیوی کو خلع کی ڈگری جاری کر دی، میں نے بھری عدالت میں سب کے سامنے اپنی بیوی کو کہا، یہ فیصلہ میری مرضی کے خلاف ہےاور میں اس نکاح کو ختم کرنے پر تیار نہیں ہوں۔عدالت نے یکطرفہ طور پر خلع کا حکم جاری کر دیا، اور میری بیوی کو حکم دیا کہ حق مہر کی رقم 50000 روپے عدالت میں جمع کرائے۔میں نے حق مہر کی رقم وصول نہیں کی، اور نہ میرا یہ وصول کرنے کا ارادہ ہے،کیونکہ میں نہ تو اس خلع کے حق میں ہوں اور نہ ہی نکاح ختم کرنا چاہتا ہوں۔ براہ کرم مجھے بتائیں خلع ہوئی ہےیا نہیں؟کیا میری بیوی ابھی بھی میرے نکاح میں ہے یا نہیں؟
جواب
اگرکوئی شخص استطاعت رکھتے ہوئے بھی بیوی کے حقوق کی ادائیگی یا نان نفقہ کی ادائیگی سے انکار کرلے تو ایسی صورت میں عورت شوہرکو طلاق یا خلع پر راضی کر کےعلیحدگی حاصل کرسکتی ہے، نیز اگر شوہر حقوق بھی ادا نہ کرے اورطلاق یا خلع سے بھی انکار کرے تو پھر بیوی کومسلمان حاکم/عدالت کی طرف رجوع کا اختیار حاصل ہے،لیکن اگر شوہر شرعی احکام کے مطابق بیوی کے ساتھ زندگی گزارتا ہو اور حقوق بھی ادا کرتا ہوتوعورت کے لیے شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ درست نہیں،اگراس صورت میں عورت نے عدالت سےرجوع کرکےتنسیخِ نکاح کی ڈگری حاصل کی تو شرعاًاس کا اعتبار نہ ہوگا ، ایسی عورت بدستور شوہر کے نکاح میں ر ہےگی،اس لیےاگرشوہر نے زبانی یا تحریری طور پر خلع کو قبول نہیں کیا تو ایسے یک طرفہ عدالتی فیصلے کو شرعی خلع قرار نہیں دیا جاسکتا،کیوں کہ شرعی طور پر خلع کے معتبر ہونے کے لیے میاں بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگرواقعتاً کسی معتبرعذر کے بغیرعورت نے عدالت میں شوہرکےخلاف خلع لینےکا کیس دائر کیا ہواوراپنادعویٰ بھی ثابت نہ کیا ہو،جبکہ شوہربیوی کے حقوق ادا کرنے کے لیےتیارہواورخلع نہ دےرہاہوتوعدالت کی طرف سےجاری شدہ خلع کی ڈگری سے نکاح ختم نہ ہوگااور بیوی شوہر کےنکاح میں ہوگی،لہذا اس کے لیے دوسری جگہ نکاح کرنا جائز نہ ہوگا۔
"والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي."(المبسوط، باب الخلع، ج:، 6ص:173)
"إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة."(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،ج:1ص:488)
"لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة."(الفتاوى الهندية، كتاب النكاح، الباب الثالث في المحرمات، القسم السادس المحرمات التي يتعلق بها حق الغير، ج:1، ص:346)
"وأما ما يرجع إلى الحال التي يجوز فيها الخلع من التي لا يجوز: فإن الجمهور على أن الخلع جائز مع التراضي."(بداية المجتهد،كتاب الطلاق، ج:3، ص:90)
"وأما المتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمير ما نصه إن منعها نفقة الحال فلها القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق وإلا طلق عليه ،قال محشيه أي طلق عليه الحاكم"۔(الحيلة الناجزة، ص:133)