بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

لاعلمی میں کلمات کفر کہنے کاحکم


سوال

میں ایک کالج کا سٹوڈنٹ ہوں میں اکثر انگریزی لیٹریچر پڑھتا ہوں تاکہ ہماری انگریزی مضبوط ہوجائے، میں لٹریچر پڑھ رہا تھا تو سامنے ایسے الفاظ آگئے جو کفریہ تھے اور جس وقت میں پڑھ رہا تھا مجھے اس کی سمجھ نہیں آرہی تھی بعد میں جب اس پیرگراف کے معانی دیکھ  رہا تھا تو وہ کفریہ الفاظ تھے تو کیا  ایسے کلمات کفر کہنا جس کو آدمی سمجھتا نہ ہو اور نہ کفر کا قصد  اور ارادہ  ہو تو کیا اس سے آدمی کافر ہوجاتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  اگر کوئی بلاقصدو ارادہ لاعلمی  میں  کلمات کفر پڑھے یا کسی عبارت کو صحیح غرض سے پڑھنے کے دوران درمیان میں بلا قصد و ارادہ کلمات کفر آجائیں تو اس سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل نے انگریزی لیٹریچر پڑھنے کے دوران بلاقصد و ارادہ کلمات  کفر بھی پڑھ لیےتو اس سےدائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوا البتہ آئندہ ایسے لٹریچر پڑھنے سے اجتناب کرنا چاہیئے تاکہ شکوک و شبہات میں مبتلا نہ ہونا پڑے۔

 

ومن تكلم بها خطأ أو مكرها ‌لا ‌يكفر ‌عند ‌الكل ومن تكلم بها عالما عامدا كفر عند الكل ومن تكلم بها اختيارا جاهلا بأنها كفر ففيه اختلاف والذي تحرر أنه لا يفتى بتكفير مسلم مهما أمكن حمل كلامه على محمل حسن.(مجمع الانهر في شرح ملتقی الابحر، الصبي العاقل إذا ارتد،ج:1،ص:688)


فتویٰ نمبر : 10139/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور