بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

غار میں پھنس جانے والے تین افراد کے واقعے سے متعلق حدیث


سوال

ایک شخص  ایک بندے کو کچھ بھیڑ بکریاں وغیرہ دے کرچلا گیا، پھر کافی عرصہ بعد واپس آکر اپنے جانوروں کا پوچھا۔ اس نے کہا کہ ہاں یہ سامنے بھیڑ بکریوں کا سارا ریوڑ تمہارا ہے، تم نے مجھے جو بھیڑ یا بکری دی تھی یہ سب اسی کے بچے ہیں تو پہلا شخص وہ سارا ریوڑ لے کر چلا گیا ۔ کیا احادیث میں درج ذیل واقعہ ملتا ہےاگر ہے تو پورا واقعہ ذکر کریں؟نیز کیا اس کو بیان کرنا درست ہے؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ واقعہ کچھ تبدیلی کے ساتھ بخاری شریف میں موجود ایک طویل روایت میں منقول ہے۔حضرت عبداللہ  بن عمررضی اللہ عنہما  سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺنےارشاد  فرمایا کہ تم سے پہلے لوگوں (بنی اسرائیل)میں سے تین آدمی کہیں راستے میں  جارہے تھے کہ اچانک  ان پر بارش ہونے لگی،تو وہ سب ایک غار میں پناہ گیر ہوئےاور اس غار کا منہ ان پر  بند ہوگیا ،پس ایک نے دوسرے سے کہا :صاحبو بخدا !بجز سچائی کے کوئی چیز تم کو نجات نہ دے گی،لہذا تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ اس چیز کے وسیلہ سے دعا مانگے ، جس کی نسبت وہ جانتا ہو کہ اس نےاس عمل میں سچائی کی ہے،اتنے میں ایک نے کہا :اے خدا !تو خوب جانتا ہے  کہ میرا ایک مزدور تھا، جس نے فرق چاول کے بدلے میرا کام کردیا تھا وہ چلا گیا اور مزدوری چھوڑ گیا تھا ، میں نے اس فرق کو لے کر زراعت کی پھر اس کی پیداوار سے ایک گائے خرید لی (چند دن کے  بعد)وہ مزدور میرے پاس اپنی مزدوری لینے آیا  ، میں نے اس سے کہا کہ اس گائے کو ہانک لے جا، اس نے کہا (مذاق نہ کرو) میرا تو تمہارے ذمہ صرف ایک فرق چاول تھا (یہ گائے کیسی) میں نے کہا :اس گائے کو ہانک لے جا ، کیونکہ یہ گائے  اس فرق  چاول کی پیداوار ہے، میں نے خریدی ہے، بس وہ اس کو ہانک لے گیا، اے اللہ!تو جانتا ہے کہ یہ کام میں نے تیرے خوف سےکیا ہے، تو اب ہم سے (اس پتھر کو) ہٹادے، چنانچہ وہ پتھر ہٹ گیا، پھر دوسرے نے (خلوص کے ساتھ) دعا کی کہ اے خدا!تو خوب جانتا ہے کہ میرے ماں باپ جب بوڑھے ہوگئے تو میں روزانہ رات کو ان کے لیے اپنی بکریوں کا دودھ لے جاتا تھا، ایک رات اتفاق سے ان کے پاس اتنی دیر سے پہنچا کہ وہ سوچکے تھے۔اور میرے بال بچے بھوک کی وجہ سے بلبلارہے تھے۔(مگر) میں اپنے  تڑپتے ہوئے بال بچوں کو ماں باپ سے  پہلے اس لیے دودھ نہ پلاتا تھا کہ وہ سورہے تھے ، اور ان کو جگانا مناسب نہیں سمجھا اور نہ ان کو چھوڑنا گوارا ہوا کہ وہ اس (دودھ) کے نہ پینے کی وجہ سے کمزور ہوجائیں ، لہذا رات بھر برابر انتظار کرتا رہا، یہاں تک کہ صبح ہوگئی، اے خدا !اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میں نے تیرے خوف سےکیا ہے، تو اب ہم سے اس پتھر کوہٹادے، چنانچہ وہ پتھران پر سے (تھوڑا سا) اور  ہٹ گیا، اور اتنا ہٹ گیا کہ انہوں  نے آسمان کو دیکھا ، اس کے بعد تیسرے  نے دعا کی، اے خدا ! تو خوب جانتا ہے کہ میرے چچا کی پیٹی تھی ، جو مجھ کو سب آدمیوں  سے زیادہ محبوب تھی ، میں نے اس سے ہم پستر ہونے کی خواہش کی ، مگر وہ بغیر سو اشرفیاں  لینے کے لیےرضامند نہ ہوئی ، اس لیے میں نے مطلوبہ  اشرفیاں حاصل کرنے کے لیے دوڑ دھوپ کی، جب وہ مجھے مل گئیں تو میں نے وہ اشرفیاں اس کو  دے دیں اور اس نے مجھے اپنے اوپر قابو دے دیا ، جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے بیچ میں بیٹھ گیا تو اس نے کہا :اللہ سے خوف ہوکر اور مہر بکارت کو  ناحق نہ توڑ، پس میں اٹھ کھڑا ہوا اور وہ سو اشرفیاں بھی چھوڑدیں، اے خدا ! تو خوب جانتا ہے کہ میں نے تجھ سے ڈر کر یہ کام چھوڑ دیا تو اب ( اس پتھر کو) ہم سے ہٹادے، چنانچہ اللہ  تعالیٰ نے وہ پتھر پوری طرح ان پر سے ہٹادیا اوروہ تینوں باہر نکل آئے۔

 

حدثنا إسماعيل بن خليل أخبرنا علي بن مسهر عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "بينما ‌ثلاثة ‌نفر ممن كان قبلكم يمشون إذ أصابهم مطر فأووا إلى غار فانطبق عليهم فقال بعضهم لبعض إنه والله يا هؤلاء لا ينجيكم إلا الصدق فليدع كل رجل منكم بما يعلم أنه قد صدق فيه فقال واحد منهم: اللهم إن كنت تعلم أنه كان لي أجير عمل لي على فرق من أرز فذهب وتركه وأني عمدت إلى ذلك الفرق فزرعته فصار من أمره أني اشتريت منه بقرا وأنه أتاني يطلب أجره فقلت اعمد إلى تلك البقر فسقها فقال لي إنما لي عندك فرق من أرز فقلت له اعمد إلى تلك البقر فإنها من ذلك الفرق فساقها فإن كنت تعلم أني فعلت ذلك من خشيتك ففرج عنا فانساحت عنهم الصخرة، فقال الآخر: اللهم إن كنت تعلم أنه كان لي أبوان شيخان كبيران فكنت آتيهما كل ليلة بلبن غنم لي فأبطأت عليهما ليلة فجئت وقد رقدا وأهلي وعيالي يتضاغون من الجوع فكنت لا أسقيهم حتى يشرب أبواي فكرهت أن أوقظهما وكرهت أن أدعهما فيستكنا لشربتهما فلم أزل أنتظر حتى طلع الفجر فإن كنت تعلم أني فعلت ذلك من خشيتك ففرج عنا فانساحت عنهم الصخرة حتى نظروا إلى السماء، فقال الآخر: اللهم إن كنت تعلم أنه كان لي ابنة عم من أحب الناس إلي وأني راودتها عن نفسها فأبت إلا أن آتيها بمائة دينار فطلبتها حتى قدرت فأتيتها بها فدفعتها إليها فأمكنتني من نفسها فلما قعدت بين رجليها فقالت اتق الله ولا تفض الخاتم إلا بحقه فقمت وتركت المائة دينار فإن كنت تعلم أني فعلت ذلك من خشيتك ففرج عنا ففرج الله عنهم فخرجوا"۔ (الصحيح للبخاري،كتاب أحاديث الأنبياء،باب حديث الغار، رقم الحديث: 3465،ج:2، ص:1595)


فتویٰ نمبر : 5933/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور