بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

فروخت کرنے کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ میں زکوٰۃ


سوال

میں نے ایک پلاٹ خریدا ہے اس نیت سے کہ میں یہ پلاٹ بیچ کر اپنے لیے گھر بناؤں گاتو کیا  اس پلاٹ پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ سونا چاندی کے علاوہ دیگر اشیا میں زکوٰۃ کے وجوب کے لیے  تجارت کی نیت کا ہونا ضروری ہے،لہذاجو پلاٹ فروخت کرنے  کی نیت سے لیا جائے، یعنی پلاٹ خریدتے وقت یہ نیت ہو کہ مناسب قیمت ملنے پر   اسے فروخت کر ے گا ، پھر بعد میں اس رقم سے خواہ گھر بنانے کی نیت ہو یا کچھ اور نیت ہو بہرصورت ایسا پلاٹ مالِ تجارت ہے، اور مالِ تجارت اگر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو سال گزرنے پر اس کی زکاۃ واجب ہوگی۔

صورتِ مسئولہ میں چونکہ سائل نے پلاٹ فروخت کرنے کی نیت سے لیاہےاور عموما ایسے موقع پر یہی نیت ہوتی ہے کہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اس کو نفع کے ساتھ فروخت کروں گا، اس لیے یہ مال تجارت کے حکم میں ہے،چنانچہ اس پر زکوٰۃ واجب ہو گی ۔

 

"عن ابن عمر قال: ‌ليس ‌في ‌العروض زكاة إلا ما كان للتجارة".( السنن الكبير،ج:8،ص:231،رقم الحديث:7679)

"التجارة: عبارة عن شراء شيء ليباع بالربح"۔ (التعریفات للجرجانی باب التاء، ص: 53)

الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب ۔۔۔وتشترط نية التجارة ۔(فتح  القدير ،كتاب الزكوة ،باب زكوة المال، فصل في العروض، ج:2، ص:166)

 (أو نية التجارة) في العروض، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجيء، أو دلالة بأن يشتري عينا بعرض التجارة أو يؤاجر داره التي للتجارة بعرض"۔(ردالمحتارعلى الدر المختار، كتاب الزكاة، ج: 2، ص: 265،267)


فتویٰ نمبر : 10127/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور