بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
ثمن کی ادائیگی میں تاخیر پربائع کا بازاری قیمت کا مطالبہ کرنا
سوال
ایک شخص نے دوسرے پر موٹر سائیکل اس شرط کے ساتھ فروخت کیا کہ تم ایک سال کے اندر اندر ان پیسوں کی ادائیگی کروگے، لیکن اس نے ایک سال کے اندر ان پیسوں کو ادا نہیں کیا، اب بائع کہتا ہے کہ آج کل بازار میں جو قیمت چل رہی ہے، مشتری وہ قیمت ادا کرے گا، تو پوچھنا یہ ہے کہ مشتری پر کون سی قیمت ادا کرنا لازم ہے؟
جواب
جب بائع اور مشتری مجلس عقد میں کسی قیمت پر اتفاق کرکے ایجاب وقبول کرلیں تو بیع تام ہوجاتی ہے،ا ور مشتری حسب معاہدہ طے شدہ رقم ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے،پھراگر معاملہ ادھار طے ہوا ہوتو ادائیگی کی مدت کو متعین کرنا بھی ضروری ہے تاکہ بعد میں نزاع پیدا نہ ہو،نیز ادھار کی صورت میں خریدار اگر ادائیگی میں تاخیر کرےتو پھر بھی وہی رقم ادا کرے گا جو عقدکے وقت طے ہوئی تھی، بائع کے لیےمقررہ قیمت سے زیادہ رقم لینا جائز نہیں۔
صورت مسئولہ کے مطابق خریدار پر رقم کی ادائیگی حسبِ معاہدہ ایک سال کے اندر لازم تھی، تاہم اگر اس نے ادائیگی میں تاخیر کی اور اب دوسال بعد اس کو ادا کررہا ہو تو پھر بھی اس پر وہی رقم دینا لازم ہوگا جس پر اس نے موٹر سائیکل کو خریداتھا۔ بائع کے لیےاس سے زیادہ رقم کامطالبہ کرنا شرعاً جائزنہیں۔
ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما۔ (الهداية، كتاب البيوع، باب كيفية انعقادالبيع، ج:3، ص:21)
وفي الاشباه: كل قرض جر نفعا حرام۔ (ردالمحتار على الدرالمختار، مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج:5، ص:166)
إذا عقد البيع على تأجيل الثمن إلى كذا يوما، أو شهرا، أو سنة، أو إلى وقت معلوم عند العاقدين كيوم قاسم أو النيروز صح البيع۔ (مجلة الأحكام العدلية، الفصل الثاني:في بيان المسائل المتعلقة بالنسيئة والتأجيل، المادة:247، ص:50)