بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

عدالتی تنسیخ نکاح کا حکم


سوال

میرا شوہر مجھے میرا حق نہیں دیتا تھا وہ صرف شام کے وقت میرے  پاس آتاتھا، جب میری بیٹی ہوئی  اب وہ چار سال کی ہے تو اس نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں غیر مردوں  یعنی اس کے دوستوں کے ساتھ ناجائز تعلقات بناؤ ں ،میں نے اس سے انکار کیا اور اس سے کہا کہ مجھے طلاق دے دو تو اس نے مجھے کہا کہ اگر آپ غیر مردوں کے ساتھ تعلقات نہیں بناتی  ہو تو میں آپ کو خرچہ بھی نہیں دوں گا اور تمھیں ذلیل کروں گا اور نہ آپ کو طلاق دوں گا ،اس کے بعد سے وہ مجھے اور میری بیٹی کو خرچہ نہیں دے رہا ہے،تو میں   نے تنگ آکر عدالت سے رجوع کی تو عدالت نے میرے شوہر کو نوٹس بھیجا جس کا اس نے کوئی جواب نہیں دیا تو عدالت نے  تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کی ،آپ سے گزارش ہے کہ  عدالت نے جوتنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کی ہے اس سے میں آزاد ہو گئی ہوں یا نہیں؟تاکہ آنے والی  زندگی میں میرے لیے کوئی مسئلہ نہ ہو؟

جواب

واضح رہے کہ میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلقات قائم ہونے کے بعد اگر شوہر باوجود قدرت کے بیوی کے حقوق اور نان نفقہ وغیرہ کی ادائیگی سے انکار کرے جس کی وجہ سے عورت کے لیے خاوند کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہو تو ایسی صورت میں اصل حکم تو یہ ہے کہ عورت شوہر کو طلاق یا خلع پر راضی کرے،تاہم اگر شوہر نہ تو حقوق ادا کر رہا ہو اور نہ ہی طلاق  یا خلع پر راضی ہوتا ہو تو ایسی صورت میں شوہر متعنت کہلاتا ہے اور متعنت کی بیوی کو مسلمان حاکم یا عدالت کی طرف رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہے ، ایسی صورت میں عدالت مکمل تحقیق کر ے گی ،اگر عدالت شوہر کے ظلم و ستم  کو ثابت کر لے تو عدالت شوہر کو حکم دے  کہ یا  تو بیوی کو  صحیح طریقے سے آباد کرےیا اس کو طلاق دے ، اگر وہ آباد کرے تو ٹھیک ،لیکن اگر وہ انکار کرے یا عدالت کا سمن ملنے کے باوجود عدالت میں حاضر نہ ہو تو تب عدالت عورت کو تنسیخ نکاح کی ڈگری دے سکتی ہے اور یہ تنسیخ نکاح شرعا ً معتبر ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر واقعی سائلہ کا خاوند اس سے ناجائز مطالبات کرتا رہا  اور مطالبات پورا نہ کرنے کی صورت میں بیوی اور بچی کا خرچ نہیں اٹھا رہا ہو اور نہ ہی طلاق  کے لیے تیار ہو تو اس پر متعنت کی تعریف صادق آتی ہے ۔ایسی صورت میں بیوی کا عدالت کی طرف  رجوع کرنا صحیح ہے اور اگر عدالت نے مکمل تحقیق کرلی ہو اور شوہر کو بطور مدعی  علیہ عدالت میں حاضر ہونے کی اطلاع دے دی ہو لیکن اطلاع ملنے کے باوجود شوہر عدالت حاضر نہ ہوا ہو  تو ایسی صورت میں عدالت کی جاری کردہ تنسیخ نکاح  کی ڈگری طلاق کے قائم مقام ہوگی ۔بیوی اس ڈگری کے جاری ہونے کی تاریخ سے عدت گزار کر کسی اور شخص سے نکاح کر سکتی ہے۔

 

قال اللہ تعالی :فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ۔(البقرۃ 229)

وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به۔(الهداية ،باب الخلع ،ج2 ص404)

وأما المتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمير ما نصه إن منعها نفقةالحال فلها القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق و إلا طلق عليه ،قال محشيه أي طلق عليه الحاكم ۔(الحيلة الناجزة ،ص 133)

إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء۔(الفتاوى الهندية ،الباب الثالث عشر في العدة ،ج 1ص526)


فتویٰ نمبر : 6978/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور