بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تنہائی میں لغویات سے بچنا


سوال

ایک شخص جو کہ پانچ وقت کی نماز با جماعت کا پابند بھی ہےاور اس کے ساتھ ساتھ اس کا بیٹھنا بھی اکثر نیک لوگوں اورعلمائے کرام کے ساتھ ہوتا رہتا ہےلیکن مسئلہ اس کے ساتھ یہ پیش آرہا ہے کہ چونکہ آج کل موبائل کازمانہ ہےتنہائی میں موبائل پرفحش ویڈیو دیکھنے کا عادی ہو چکا ہے کئی بار ان سے توبہ تائب اور قسم بھی کرچکا ہے کہ میں آئندہ اس قبیح فعل کو نہیں کروں گا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پھر سے اس گناہ کو دہرا رہا ہےتو اس شحص کو اب کیا کرنا چائیے کوئی ایسا فعل وظیفہ وغیرہ کہ مستقل بنیاد پر اس قبیح فعل کو چھوڑے۔

جواب

 واضح رہےکہ جوویڈیوفحاشی اورعریانی وغیرہ پرمشتمل ہواس کو دیکھنااور سننا ناجائز اورحرام ہے۔ اس گناہ  کو چھوڑنے کے لیے  مضبوط ہمت اور پختہ ارادہ  کرنا چاہیے حتی الوسع گناہ کےمواقع سے دوررہنا چاہیے چا  نچہ  جہاں تنہائی  ہو وہاں  اپنے پاس  موبائل نیٹ وغیرہ نہیں رکھنا چا ہیے اوراس کے ساتھ  کثرت سے یہ استغفار پڑھناچاہیے ۔ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ.

 

قال الله تعالی:﴿وَلاَ تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ﴾  (سورة الانعام:151)

قوله: ‌ولا ‌تقربوا ‌الفواحش ما ظهر منها وما بطن قال ابن عباس: كانوا يكرهون الزنا علانية ويفعلون ذلك سرا فنهاهم الله عن الزنا علانية وسرا والأولى أن لا يخصص هذا النهي بنوع معين بل يجري على عمومه في جميع الفواحش ظاهرها وباطنها لأن اللفظ عام والمعنى الموجب لهذا النهي وهو كونه فاحشة عام أيضا ومع عموم اللفظ والمعنى يكون التخصيص على خلاف الدليل وفي قوله: ما ظهر منها وما بطن دقيقة وهي: أن الإنسان إذا احترز عن المعصية في الظاهر ولم يحترز عنها في الباطن دل ذلك على أن احترازه عنها ليس لأجل عبودية الله وطاعته ولكن لأجل الخوف من مذمة الناس وذلك باطل لأن من كان مذمة الناس عنده أعظم وقعا من عقاب الله ونحوه فإنه يخشى عليه من الكفر ومن ترك المعصية ظاهرا وباطنا دل ذلك على أنه إنما تركها تعظيما لأمر الله تعالى وخوفا من عذابه ورغبة في عبوديته.(التفسير الكبير لامام الفخر الرازى، سورة الانعام:151، ج:5، ص:178)

 

قال الله تعالى﴿وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ﴾ (سورة المؤمنون:2)

وقال﴿وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا ﴾ (سورة الفرقان:72)

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من ‌حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه"۔(سنن الترمذى،رقم الحديث 2317)


فتویٰ نمبر : 5945/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور