بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بعض قطعی اور یقینی عقائد کا انکار


سوال

اگر کسی شخص کا عقیدہ یہ ہو  کہ عیسی علیہ السلام وفات پا چکے ہیں ،قیامت کے قریب کوئی مہدی نہیں آئے گا،سنتوں کی کل تعداد صرف 27 ہے،داڑھی  سنت  اور دین کا حصہ نہیں  ، اجماع دین میں بدعت اور اضافہ ہے ،حدیث سے دین میں کسی عمل یا عقیدے کا اضافہ بالکل نہیں ہوسکتا  اور قرآن پاک کی صرف ایک قرات ہے باقی  قراتیں عجم کا فتنہ ہے ، اسی طرح قادیانیوں کو کافر نہ سمجھتا ہو  ،تو ایسے عقائد و نظریات رکھنے والے شخص  کا کیا حکم ہے؟نیز جو ان عقائد والوں کو اچھا سمجھتا ہو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

ضروریاتِ دین سے وہ تمام دینی امور مراد ہیں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قطعی طور پر تواتر کے ساتھ ثابت ہوں، اور جن کا دین محمدی سے ہونا ہر خاص وعام کو بداہۃً معلوم ہو، یعنی ان کا حصول کسی خاص اہتمام اور تعلیم پر موقوف نہ ہو، بلکہ عام طور پر وہ امور مسلمانوں کو معلوم  ہوں، مثلاً: نماز ، روزہ حج، زکوة کی فرضیت اور زنا،قتل،چوری ،شراب خوری وغیرہ کی حرمت وممانعت وغیرہ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کا خاتم الأنبیاء ہونا،حشرونشر،جزاء سزا وغیرہ۔ایسے تمام ضروریات دین  کا منکریا ان میں سے کسی ایک کامنکر دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے،خواہ وہ مسلمانوں کے گھرانے سے تعلق رکھتا ہواور نام بھی مسلمانوں جیساہواور یا علمی لبادی اوڑھ چکا ہو،بہرحال ضروریات دین سے انکار ناقابل برداشت ہے۔

صورت مسؤلہ میں بنیادی طور پر آٹھ  عقائد و نظریات کے منکر کے بارے میں دریافت کیا گیا ہے ۔ان میں سے ہر ایک کی تفصیل درجہ ذیل ہے:

1۔ حیات مسیح کی اہمیت شریعت میں بکثرت احادیث اور قرآن کی بعض آیات سے واضح ہے لیکن بیسویں صدی میں غلام احمد قادیانی  دجل و تلبیس سے کام لے کر ختم نبوت کے متفقہ عقیدہ  اور حیات مسیح سے انکار کر کے   خود کو مسیح موعود کہنے لگا تو اس کی ضرورت اور اہمیت کا احساس  بڑھ گیا۔چنانچہ امت میں اس حوالے سے بیداری کا جذبہ پیدا ہوا اور حیات مسیح ضروریات  دین میں سے قرار دیا گیا تاکہ اس دجل و تلبیس کا تدارک اور انسداد ہو چنانچہ علماءکرام فرماتے ہیں،کہ حيات عيسی علیہ السلام اور قرب قیامت آپ کے نزول کا تذکرہ قرآن پاک کی متعدد آیات سے واضح ہے ، کلام پاک میں اللہ رب العزت کا فرمان  ہے ﴿وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا◌ بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ◌ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ﴾  (سورة النساء:159،158،157)اس آيت سے معلوم ہوا کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ قتل کیا ہے اور نہ ہی سولی دی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اٹھالیا ہے، اور آپ کی وفات سے قبل تمام اہل کتاب آپ پر ایمان لائیں گے، اور یہ اسی وقت ہوگا جب کہ قربِ قیامت آپ دنیا میں تشریف لائیں، نیز حیات ونزولِ عیسیٰ علیہ السلام بکثرت احادیث مبارکہ سے بھی  ثابت ہے  جو حد تواتر کو پہنچ چکی ہیں،  نبی کریم ﷺ کا ارشاد   "عن أبي هريرة أنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" والله لينزلن ابن مريم حكما عادلا، ‌فليكسرن ‌الصليب وليقتلن الخنزير، وليضعن الجزية، ولتتركن القلاص، فلا يسعى عليها، ولتذهبن الشحناء والتباغض والتحاسد، وليدعون إلى المال فلا يقبله أحد ".(صحيح مسلم، باب نزول عيسى ابن مريم حاكما بشريعة محمدﷺ، رقم الحديث:243)

دوسری جگہ  نبی کریم ﷺ کا فرمان:   عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله: {وإنه لعلم للساعة} [الزخرف: 61]، قال: "‌نزول ‌عيسى ‌ابن ‌مريم ‌من ‌قبل ‌يوم ‌القيامة". (صحيح ابن حبان، ذكر البيان بان عيسي ابن مريم من اعلام الساعة، رقم الحديث:4989)

ان آيات اور حديث  سے  ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو نہ قتل کیا گیا اور نہ سولی پر چڑھایا گیا ،بلکہ  معاملہ ان کے لیے مشتبہ کر دیا گیا ۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام  کا آخری زمانے میں زمین پر آنا  قطعی اور اجماعی عقیدہ ہے اور یہ عقیدہ ضروریات دین میں سے ہے، اور ضروریاتِ دین کا منکر یا اس میں تاویل کرنے والا  مسلمان نہیں ہوسکتا۔

علامہ انور شاہ کشمیری ؒ  اکفار الملحدین میں فرماتےہیں: إنه قد تواتر و انعقد الإجماع على نزول عيسى بن مريم عليه السلام، فتأويل هذه و تحريفه کفر أيضا.(إكفار الملحدين في ضروريات الدين، ص:33، المجلس العلمي)

2۔  احادیثِ مبارکہ میں قیامت کے قریب حضرت مہدی کے ظہور کو قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کے طور پر بیان کیاگیا ہے،تاہم ان کے نزول کا کوئی وقت متعین نہیں کیا گیا۔یہ احادیث سنن الترمذی،سنن ابوداؤد وغيره ميں موجود ہيں ۔اگر کوئی شخص حضرت مہدی کے ظہور کا قائل نہیں تو ایسا شخص ضلالت و گمراہی میں مبتلا ہے۔

عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا ‌تذهب ‌الدنيا ‌حتى ‌يملك ‌العرب رجل من أهل بيتي يواطئ اسمه اسمي: وفي الباب عن علي، وأبي سعيد، وأم سلمة، وأبي هريرة وهذا حديث حسن صحيح.(سنن الترمذي، باب ما جاء في المهدي، رقم الحديث:2230، ج:4، ص:505)

عن أم سلمة، قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: المهدي ‌من ‌عترتي، من ولد فاطمة.(سنن ابي داؤد، كتاب المهدي، رقم الحديث:4284)

3۔ سنت  کا لغوی معنی ہے خاص طریقہ، ضابطہ، طرز۔ جب کہ سنت کا اصطلاحی معنی  ہے" فرض و واجب کے علاوہ ایسا عمل جس کے کرنے کا مطالبہ مکلف شخص سے ہوتا ہے اور اس کو کرنے والا ثواب جب کہ نہ کرنے ولا عتاب کا مستحق ٹھہرتا ہے" ۔سنت اعمال کا ثبوت احادیث مبارکہ  سے ہوتا ہے اور ان کی تعداد متعین طور پر بتانا مشکل ہےتاہم یہ بات یقینی ہے کہ سنتوں کی تعداد صرف 27 نہیں بلکہ اس سے  بہت زیادہ ہے۔

وسنة: ‌وهي ‌الطريقة ‌المسلوكة في الدين) التي يطالب المكلف بإقامتها من غير افتراض ولا وجوب، فخرج النفل؛ لأنه لا يطالب بإقامته، وخرج الواجب والفرض.(خلاصه الافكار شرح مختصر المنار، فصل في العزيمة والرخصة، ص:122)

4۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تھیوری کے ساتھ پریکٹیکل ضروری ہوتا ہے ۔قرآن مجید اللہ تعالٰی کی کتاب  ہے اس کا سمجھنا  عام بشر کے بس کی بات نہیں اس لیے اللہ تعالٰی نے ہمیشہ کتاب اللہ کی عملی ترجمانی اور مقاصد کی تعیین کے لیے رجال اللہ کا اہتمام کیا۔ جن کا انتخاب کمالات نبوی، کمالات رسالت اور کمالات الو العزم کی روشنی   میں کر کے وحی کی عملی ترجمانی کا فریضہ سرانجام دیا چنانچہ علماء کا کہنا ہے کہ اللہ رب العزت نے بنی نوع انسان کے رشدو ہدایت کے لیے اپنے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم  پر قرآن کریم نازل فرمایا  جس میں پورے دین کو اصولی اور اجمالی طور پر بیان کیا گیاہے۔قرآن حکیم کے بلیغ اسلوب کو سمجھنے اور اس کے اسرارو رموز سے واقف ہونے کے لیےصرف  لغت کی کتابوں کا سہارا  کافی نہیں تھا ،بلکہ ایک کامل معلم کی ضرورت تھی جو قرآنی کلیات و اصول کے تحت داخل ہونے والی تمام فروع  و جزئیات کو اپنے افعال و اقوال سے واضح کر دے ۔چنانچہ اسی مقصد کے لیے رب کائنات نے  اپنے آخری نبی کو مبعوث فرمایا ،جنہوں نے اپنے اقوال و افعال کے ذریعے قرآن کریم کو واضح کر کے امت کے سامنے دستور ہدایت کے طور پر  پیش کیا ۔لہذا قرآن مجید کے بعد سنت رسول ﷺ شرعی حجت ہے  ۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے   ﴿‌وَمَا ‌يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى ﴾ (النجم:4،3) اسی طرح  دوسری جگہ ارشاد ہے ﴿‌أطِيعُوا اللَّهَ ‌وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ﴾ (النساء:59)

احادیث کو مطلقا بے ضرورت کہنا اور وقتی تشریح قرار دے کر اس سےمطلقاً انکار کرنا کئی آیات سے انکار کے مترادف ہے بلکہ ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ احادیث کی حجیت ضروریات دین میں سے ہے اس سے مطلقاً انکار کرناموجب کفر ہے۔البتہ کسی خاص حدیث سے بوجہ سند یا دوسرے عوارض کی بنا پر انکار اور تاویل کرنا فقہاء اور محدثین کی خوبی ہے جو احادیث پر عمل کرتے وقت تطبیق ،ترجیح یا تنسیخ سے کام لیتے ہیں وہ امت کے لیے رحمت سے کم نہیں  ۔لہذا احادیث مبارکہ کی حجیت سے انکاربڑی  گمراہی ہے ،علامہ شاطبی ؒ نے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے: أن الاقتصار على الكتاب رأي قوم لا خلاق لهم، خارجين عن السنة(الموافقات للشاطبی، الدليل الثانی:السنة، ج:4، ص:120) ترجمہ:صرف کتاب اللہ پر اقتصار کرنا(حدیث کو  نہ ماننا ) ایک ایسی قوم کی رائے ہے جن کا شریعت میں کوئی حصہ نہیں اور وہ لوگ اہل سنت سے باہر ہیں۔

5۔ داڑھی تمام انبیائے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی سنت، مسلمانوں کا قومی شعار اور  مرد کی فطری اور طبعی چیزوں میں سے ہے، ا سی لیے رسول اللہ ﷺ نے اس شعار کو اپنانے کا حکم فرمایا ہے ۔ہمارے جمہور علماء کے نزدیک داڑھی رکھنا واجب ہے اور ایک مشت مقدار فقہ حنفی کی رو سے ضروری ہے  ۔ اس حکم کا منکر فاسق اور گناہ گار ہے۔

عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " خالفوا المشركين: وفروا اللحى، وأحفوا الشوارب " وكان ابن عمر: إذا حج أو اعتمر قبض على لحيته، فما فضل أخذه۔(الصحيح للبخاري، كتاب اللباس، باب تقليم الاظفار، رقم الحديث: 5553،ج:5 ص:2209)

عن عائشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " عشر من الفطرة: قص الشارب، وإعفاء اللحية، والسواك، واستنشاق الماء، وقص الأظفار، وغسل البراجم، ونتف الإبط، وحلق العانة، وانتقاص الماء " قال زكريا: قال مصعب: ونسيت العاشرة إلا أن تكون المضمضة". (صحيح مسلم، باب خصال الفطرة، رقم الحديث:261، ج:1، ص:223)

محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة عن الهيثم عن ابن عمررضى الله عنهما أنه كان يقبض على لحيته ثم يقص ما تحت القبض. قال محمد: وبه نأخذ ،وهو قول أبي حنيفة.(كتاب الاثار، باب حف الشعر من الوجه يقال حفت المرأة وجهها اي أخذت عنه الشعر، رقم الحديث:900، ص:198)

6۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کسی زمانہ میں پیش آنے والے مسئلہ کے حکم شرعی پر اس زمانہ کے تمام مجتہدین کا اتفاق کرلینا اجماع کہلاتا ہے ۔   جب کسی زمانہ میں کوئی مسئلہ پیش آئے اور اس کا حکم شرعی صراحتاً نہ کتاب اللہ میں ہو نہ سنت رسول اللہ میں، اور  اس وقت کے مجتہدین قولاً یا فعلاً یا تقریراً یا سکوتاً کسی ایک حکم پر اتفاق کرلیں تو یہ اجماع ہے، اجماع درحقیقت رائے عامہ ہے جو خاص شرائط سے فقہی مراجع میں سے ہے اور امت کے  لیے کئی مسائل میں رہبری  کرتا ہے اس لیے    اجماع امت حجت قطعی ہے، اس سے علم یقینی حاصل ہوتا ہے، اجماع کی مخالفت حرام ہے۔ امام بزدوی ؒ کے ہاں اگر اجماع صحابہ کرام ؓ کی ہو تو وہ کتا ب اللہ اور سنت رسول کی طرح ہے اور اگر اجماع تابعین اور تبع تابعین کے دور کی ہو اور اس میں اختلاف نہ ہو تو وہ بمنزلہ خبر مشہور ہے اور اگر اس میں اختلاف  ہو تو وہ خبر واحد کے مرتبے میں ہوگا، ثبوت اجماع پر قرآن وحدیث میں بہت سارے دلائل موجود ہیں۔

الإجماع: في اللغة العزم واصطلاحاً: اتفاق المجتهدين من أمة محمد صلی الله عليه وسلم في عصر من العصور بعد وفاته صلی الله عليه وسلم علی حکم شرعي في واقعة من الوقائع. وفي ”أصول“ السرخسي: إجماع الأمة موجب للعلم قطعاً کرامة لهم علی الدين لانقطاع توهم اجتماعهم علی الضلال، وهذا  مذهب الفقهاء وأکثر المتکلمين، وهذا الإجماع حجة موجبة شرعا، والحق فيما اجتمعوا عليه قطعًا، واستدل الحنفية وغيرهم علی حجية الإجماع بالکتاب والسنة، دليل الکتاب: قوله تعالی: کُنْتُمْ خَيرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنهون  عَنِ الْمُنْکَرِ ”آل عمران“ و”خير“ بمعنی أفعل يدل علی النهاية في الخيرية فيما يجتمعون عليه، والمعروف ما هو حق عند الله يلزم العمل به، وهو ما يجتمعون عليه․ وقال تعالی: وَيتَّبِعْ غَيرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ ”النساء“ جعل اتباع غير سبيل الموٴمنين بمنزلة مشاقة الرسول في استيجاب النار، وقال تعالی: وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّةً وَسَطً (البقرة) والوسط، العدل المرضي، وفيه تنصيص لهم بالعدالة، وأن الحق ما يجتمعون عليه ودليل السنة: قال رسول الله صلی الله عليه وسلم ”من سرّه أن يسکن بحبوحة الجنة فليلزم الجماعة“ ”ويد الله مع الجماعة“ و”من خالف الجماعة قيد شبرٍ فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه“ و”أن الله لا يجمع أمتي علی ضلالة، وما رأه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن، وما رأه المسلمون قبيحًا فهو قبيح“ وقال السرخسي: والآثار في هذا تبلغ حدّ التواتر.(الفتاوى الهندية، المدخل الى الفتاوى،ج:1، ص:35،34)

ولذلك جعل الإمام البزدوي الحنفي: أن إجماع الصحابة مثل الكتاب والسنة المتواترة، وأما إجماع من بعدهم من التابعين وتابعيهم بنزلة المشهور والإجماع الذي سبق فيه الخلاف بمنزلة خبر الواحد. .(الفتاوى الهندية، المدخل إلى الفتاوى،ج:1، ص:37)

ہاں یہ ایک حقیقت ہے کہ اجماع کیسے ہوا؟ علماء نے اس کی مختلف شکلیں بیان کی ہیں ۔لیکن اس کو سمجھنے کے لیے فراست ایمانی کی ضرورت ہے دل کے رنگ آلودہ شیشہ  میں اس کا حقیقت  کا عکس اترنا مشکل ہے ،اس کے لیے ایمانی فراست کا ہونا ضروری ہے ۔جو إنما أنا قاسم والله يعطي کی روشنی سے اہل اللہ کی محفل میں مل سکتی ہے

7۔قادیانی ختم نبوت کا انکار کرتے ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں ۔ان کا یہ عقیدہ قرآن و حدیث کے  صریح نصوص کی   صریح مخالفت ہے اسی وجہ سے قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔قادیانی چونکہ اجماع امت سے مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔اس کے بارے میں نرم گوشہ رکھنا یا سیاسی مصلحتوں کا شکار ہو کر لوگوں کو شکوک میں ڈالنا نری بے دینی ہے۔

 

قال الله تعالى﴿‌مَا ‌كَانَ ‌مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ﴾ (الاحزاب:40)

عن سعد بن أبي وقاص أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لعلي: أنت مني بمنزلة هارون من موسى، إلا أنه ‌لا ‌نبي ‌بعدي.(سنن الترمذي، باب مناقب على ابن ابي طالب، رقم الحديث:3731)

وقائل هذا كله كافر بالإجماع على كفر من لم يكفر أحدا من النصارى واليهود، ‌وكل ‌من ‌فارق ‌دين ‌المسلمين ووقف في تكفيرهم أو شك، لقيام النص والإجماع على كفرهم. فمن وقف فيه فقد كذب النص.(البحر المحيط في اصول الفقه، مباحث الاجتهاد، فصل الاجتهاد بعد النبیﷺ،علامه بدر الدين زركشي، ج:8، صِ279)

 8۔قرآن مجید اللہ کا کلام ہے ۔ اس کی بہت سی خصوصیات ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک سے زائد قراءات کے ساتھ نازل ہوا اور پھر انھی قراء ات کے ساتھ امت میں نقل ہوتا چلا آ رہا ہے۔ قرآن کریم کی ایک سے زائد قراءات پر نازل ہونا  بخاری و مسلم کی صحیح احادیث  سے ثابت ہے ، اس لیے قرآن کی قرات کو صرف ایک میں منحصر سمجھنا درست نہیں ۔مختلف قراءات کو عجمی فتنہ کہنا جہالت اور گمراہی پر مبنی ہے۔

سمعت عمر بن الخطاب رضي الله عنه يقول: سمعت هشام بن حكيم ابن حزام: يقرأ سورة الفرقان على غير ما أقرؤها، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم أقرنيها، ‌وكدت ‌أن ‌أعجل ‌عليه، ‌ثم ‌أمهلته ‌حتى ‌انصرف، ثم لببته بردائه، فجئت به رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: إني سمعت هذا يقرأ على غير ما أقرأتنيها، فقال لي: (أرسله). ثم قال له: (اقرأ). فقرأ، قال: (هكذا أنزلت). ثم قال لي: (اقرأ). فقرأت، فقال: (هكذا أنزلت، إن القرآن أنزل على سبعة أحرف، فاقرؤوا منه ما تيسر). ).(صحيح البخاري، كتاب الخصومات، باب كلام الخصوم بضهم فى بعض،رقم الحديث:2287، ج:2، ص:85)

عن ابن عباس رضي الله عنهما : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:أقرأني ‌جبريل على حرف، فراجعته، فلم أزل أستزيده ويزيدني، حتى انتهى إلى سبعة أحرف.وفيه ايضا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن هذا القرآن أنزل على سبعة أحرف، فاقرؤوا ما تيسر منه. (صحيح البخاري، كتاب فضائل القرآن، باب انزل القرآن على سبعة احرف، رقم الحديث :4705) 


فتویٰ نمبر : 5916/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور