بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مسجد کے اوپر "بلا تفریق مسالک"لکھنا


سوال

معاشرے کو جوڑنے کی غرض سے جامع مسجد کے اوپر یہ جملہ  "بلا تفریق مسالک" لکھانا جائز ہے یا نہیں؟مسالک سے مراد دیوبندیت ،بریلویت،غیر مقلدیت  ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ امت  میں  وحدت اور اتفاق  پیدا کرنے کی  خاطر ہر وہ کام کرنا جائز ہے جو شریعت کے خلاف  نہ ہو ،البتہ  اگر امت میں اتفاق پیدا کرنے کی خاطر  ایسا کام کیا  جائے جو شریعت کے مخالف اور معصیت   والا ہو تو ایسا کام کرنا جائز نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر امت میں اتفاق پیدا کرنے کی خاطر  جامع مسجد کے اوپر  " بلا تفریق مسالک"اس نیت سے لکھا جائے کہ  ہر  مسلک کے لوگ اس مسجد میں آکر نماز ادا کریں تو گنجائش ہے ۔تاہم اس جملہ کو لکھنے کی بجائے اگر کسی بھی خاص مسلک کا نام نہ لکھا جائے اور نہ ہی کسی خاص مسلک کا کوئی نشان ظاہر کیا جائے تو وہ زیادہ بہتر ہے۔ نیزاس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ امام صحیح عقیدہ  رکھنے والا     ،متقی پرہیزگار ہو ،اگر کسی امام کاعقیدہ اہل سنت والجماعت کے خلاف ہو  مثلا: حضور ﷺ کو ہر جگہ حاضر و ناظر اور عالم الغیب سمجھتا ہو تو  وہ مبتد ع ہے ،اس لیے ایسے شخص  کو امام نہ بنایا جائے،نہ ہی ایسے لوگوں کو مسجد کی کمیٹی میں بااختیار بنایا جائے۔

 

قال المرغيناني تجوز الصلاة خلف صاحب هوى وبدعة ‌ولا ‌تجوز ‌خلف ‌الرافضي والجهمي والقدري والمشبهة ومن يقول بخلق القرآن وحاصله إن كان هوى لا يكفر به صاحبه تجوز الصلاة خلفه مع الكراهة وإلا فلا۔۔۔ولو صلى خلف مبتدع أو فاسق فهو محرز ثواب الجماعة لكن لا ينال مثل ما ينال خلف تقي۔(الفتاوى الهندية،كتاب الصلاة،ج:1ص:84)


فتویٰ نمبر : 5908/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور