بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
مسجد کی زمین مدرسہ کے استعمال میں لانا
سوال
مسجد عمر فاروق ایک چھوٹی سی مسجد تھی،بعد میں امام مسجد اور اہل محلہ کی سعی وکوشش سے اس میں توسیع کی گئی،اور اسی توسیع میں مسجد کے ساتھ متصل جگہ کا مدرسہ کے لیے انتخاب ہوگیا جو ابھی تک زیر تعمیر ہے، اورمہتمم صاحب اسی مسجد کا خطیب ہے۔چونکہ مدرسہ میں طلباء کرام کی تعداد زیادہ تھی،جس کی وجہ سے مہتمم مدرسہ نے الگ جگہ خریدی۔اب پوچھنا یہ ہے کہ خریدی ہوئی جگہ آباد ہوجائے اور مدرسہ وہاں منتقل ہو جائے ،تو اس قدیم جگہ کو مہتمم مدرسہ بطور مرکز استعمال کر سکتا ہےیا اس کا چھوڑنا لازمی ہوگا؟وضاحت فرمائیں۔
جواب
واضح رہے کہ مسجد اللہ کی عبادت نماز،ذکر، تلاوت،قرآن وحدیث کی تعلیم و تعلم کی جگہ ہے اس لیے مسجد میں ان سب اعمال کی اجازت ہے جب کہ اس کے علاوہ کوئی ایسی سرگرمی جس سے مسجد کے آداب واحترام میں خلل آئے ،یا مسجد کا تقدس مجروح ہو تو اس سے احتراز ضروری ہے ۔
صورت مسئولہ میں مسجد کو قرآن و حدیث یا دیگر علوم دینیہ کی تعلیم و تعلم کے لیے استعمال کرنے کی اجازت ہے بشرطیکہ اس سے نمازمتأثر نہ ہو ۔جب کہ مسجد سے متصل جگہ اگر شروع سے ہی مدرسہ ہی کے لیے وقف ہو تو اس میں بلاشبہ تعلیمی وتربیتی سرگرمیوں کو بحال رکھا جائے گا۔مدرسہ کے لیے نئی جگہ خریدنے سے پرانی جگہ کی حیثیت پر فرق نہیں پڑے گا۔لہذا پرانی جگہ کو مدرسہ کے لیے استعمال کرنا یا اس کو مرکزی حیثیت دے کر اس میں تعلیمی سرگرمیاں بحال رکھنا جائز ہے۔
عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:إن هذه المساجد لا تصلح لشيء من هذا البول ولا القذر، إنما هي لذكر الله عز وجل والصلاة وقراءة القرآن، أو كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم. (صحيح مسلم، كتاب الطهارة، باب وجوب غسل البول...،رقم الحديث:285،ج:1،ص:163)
ويجوز الدرس في المسجد وإن كان فيه استعمال اللبود والبواري المسبلة لأجل المسجد.(البحرالرائق، كتاب الوقف، فصل اختص المسجد بأحكام..،كان الى المسجد مدخل من دارموقوفة، ج:5،ص:270)