بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ایجنٹ کا لوگوں سے پیسے لے کرغیر قانونی طریقے سے باہر ممالک بھیجنا


سوال

ایجنٹ  پیسے لے کر لوگوں کو غیر قانونی طریقے سے  بیرون ملک بھیجتے ہیں ،توکیا  ایجنٹ جو پیسے لیتے ہیں حلال ہے یا حرام ؟ 

جواب

واضح رہے کہ ملکی قانون جب شریعت کے اصول سے متصادم نہ ہو،تو اس کی پاسداری شرعا بھی ضروری ہوتی ہے  ۔نیز ریاستی قوانین رفاہ عامہ کے لیے ہوتے ہیں، اور ہر شہری کا اپنی ریاست سے  یہ معاہدہ ہوتا ہے کہ وہ  قوانین   کا پابند رہے گا ۔چونکہ ریاستی حدود کو بغیر ویزا/اجازت نامہ کے پار کرنا قانونا جرم ہے اس لئے  شرعا بھی جائز نہیں۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شخص دوسرے لوگوں سے پیسے لےکر ان  کو  غیر  قانونی طور پر بیرون ملک بھیجتا ہے  ،تواس کے لئے  یہ  پیسے لینا ناجائز ہے ۔

 

 قال الله تعالى:﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ﴾.(النساء: 59).

"عن ابن عمر رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:«السمع والطاعة حق ما لم يؤمر بالمعصية، فإذا أمر بمعصية، فلا سمع ولا طاعة»".(صحيح البخاري، كتاب الأحكام،باب السمع والطاعة للإمام ما لم تكن معصية،رقم الحديث:2955، ج:4،ص:49)

ولو استأجر الذمي مسلما ليبني له بيعة أو كنيسة جاز ويطيب له الأجر۔(الفتاوى الهندية،كتاب الاجارة،الباب  السادس عشر في مسائل الشيوع۔۔۔ج4/ص487)

"(لا تصح الإجارة لعسب التيس) وهو نزوه على الإناث (و) لا (لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي) ولو أخذ بلا شرط يباح.

وفي المنتقى: امرأة نائحة أو صاحبة طبل أو زمر اكتسبت مالا ردته على أربابه إن علموا وإلا تتصدق به، وإن من غير شرط فهو لها: قال الإمام الأستاذ لا يطيب، والمعروف كالمشروط اهـ. قلت: وهذا مما يتعين الأخذ به في زماننا لعلمهم أنهم لا يذهبون إلا بأجر ألبتة ط".(رد المحتار علی االدر المختار کتاب الاجارۃ، ج:6،ص:55)

"لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ".(رد المحتار علی الدرالمختاركتاب الحضر و الاباحة، فصل في البيع،ج:6،ص:385)


فتویٰ نمبر : 5953/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور