بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
پیشاب کرتے وقت عذر کی وجہ سےبیت اللہ کی طرف رخ کرنا
سوال
میری والدہ کے پاؤں پر چوٹ آئی ہے جس کی وجہ سےکموڈ پر دوزانوں نہیں بیٹھ سکتی، ان کے لیے بیت الخلاء میں کرسی نصب کی ہے، جس کا رخ قبلہ کی طرف ہے، جب کہ قبلہ کی طرف کے علاوہ دوسری طرف اس کا رخ کرنا ممکن نہیں ہے، کیونکہ باتھ روم چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس طرف جگہ نہیں، تو ازروئے شریعت ایسا کرنا کیسا ہے؟
جواب
بیت اللہ دنیا کی سطح پر اللہ تعالی کے نزدیک افضل ترین مقام ہے، جس کا احترام رکھنا اور ہر قسم کی بے ادبی سے بچنا مسلمانوں پر لازم ہے، اور بیت اللہ کی جانب پیشاب کرنا چونکہ اس کی بے ادبی شمار ہوتی ہے، اس لیے احادیث مبارکہ میں بیت اللہ کی جانب پیشاب کرنے سے ممانعت آئی ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد مبارک کا مفہوم ہے کہ جب تم بیت الخلا آؤ تو چھوٹے اور بڑے استنجا میں قبلہ کی طرف نہ منہ کرو اور نہ پیٹھ۔ اسی طرح ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم شام گئے تو وہاں پر بیت الخلا قبلہ کی جانب بنے ہوئے تھے، تو ہم تکلف کے ساتھ گھوم کر بیٹھتے تھے، یعنی حتی الامکان قبلہ کی جانب منہ یا پیٹھ کرنے سے بچنے کی کوشش کرتے، اور استغفار کرتے۔ عام حالات میں یہی حکم ہے تاہم کسی معقول عذرکی بناء پر بیت اللہ کی جانب پیشاب کرنے کی فقہاء نے شرعا اجازت دی ہے۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق اگرواقعی بیت الخلاء اس طرز پر بنا ہوا ہو کہ اس میں کرسی بیت اللہ کی طرف نصب کرنے کے بعد جگہ کی تنگی کی وجہ سے اس کا رخ دوسری طرف تبدیل کرنا ممکن نہ ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں سائل کی والدہ کےلئے قبلہ رو بیٹھ کر قضائے حاجت کرنے کی گنجائش ہے۔
عن أبي أيوب الأنصاري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة بغائط و لا بول و لا تستدبروها و لكن شرقوا أو غربوا فقال أبو أيوب فقدمنا الشأم فوجدنا مراحيض قد بنيت مستقبل القبلة فننحرف عنها ونستغفر الله. (سنن الترمذي، ابواب الطهارة، باب في النهي عن استقبال القبلة بغائط أو بول، رقم الحديث:8، ج:1،ص:13)
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: «ارتقيت فوق بيت حفصة لبعض حاجتي، فرأيت رسول الله - صلى الله عليه وسلم- يقضي حاجته مستدبر القبلة مستقبل الشام» ۔ متفق عليه۔(«فرأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقضي حاجته» ) : أي في الخلاء كما دلت عليه رواية أخرى ( «مستدبر القبلة» ) : وفيه أنه يمكن أن يكون قبل النهي أو لعذر كان هناك أو لكونه لا حرج في حقه سيما في حالة استغراقه۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الطهارة، باب آداب الخلاء، ج:1، ص:374)