بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

طلاق کی دھمکی یا مستقبل میں طلاق دینے کے عزم کا اظہار کرنا


سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دی تھیں ،پھر کچھ وقت بعد بیوی کے  ساتھ جھگڑاہوااور بیوی کو کہا کہ تم والدین کے گھر چلی جاؤ ،میں تمہیں طلاق دے دوں گااب  اس کو تیسری  طلاق واقع ہو گی یا نہیں ؟

جواب

اگر کسی شخص نے  ایسے الفاظ استعمال کئے جس  سے طلاق دینے کی دھمکی یا   مستقبل میں طلاق دینے کا عزم ظاہر ہو رہا ہو تو ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہو گی۔ کیونکہ طلاق کے وقوع  کے لیے ماضی یا حال پر دلالت کرنے والے الفاظ استعمال کرنا ضروری ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو پہلے دو طلاقیں دی  ہوں ،پھر عدت میں رجوع کیا ہو اور کچھ وقت  بعد  بیوی کو یہ کہا  ہو کہ "تم والدین کے گھر چلی جاو  میں تمہیں طلاق دے دوں گا"تو یہ الفاظ تیسری طلاق دینے کی دھمکی اور مستقبل میں طلاق دینے کے عزم کا اظہار  ہے ، لہذاان الفاظ  کے کہنے سے بیوی کو تیسری طلاق واقع نہیں ہو گی بلکہ بدستور اُس کی منکوحہ رہے گی۔

 

ولو قال أردت طلاقك لا يقع۔ (البحرالرائق،كتاب الطلاق،ج:3ص:270)

صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا اغلب في الحال۔(تنقيح الحامدية،كتاب الطلاق،ج:1،ص:38)

و في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،ج:1،ص:384)


فتویٰ نمبر : 6969/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور