بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مرشد کے لیے شرائط


سوال

مرشد نیک راستے کی طرف رہنمائی کرنے والا ہوتاہے،تو مرشد کے اندر کن کن صفات کا پایا جانا ضروری ہے؟ نیزبعض لوگ کسی فاسق و فاجر شخص کو اپنا مرشد کہتے اور مانتے ہیں، کیا ان  لوگوں کا یہ فعل درست ہے؟

جواب

مرشد فیض حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتاہے، جو نفس کی اصلاح اور وصول الی اللہ میں مدد دیتاہے۔اس لیے علمائے کرام نےایک کامل مرشد کے لیے  مندرجہ ذیل شرائط مقرر کی ہیں:

1۔ وہ دین کا ضروری علم رکھتا ہو،

2۔ متقی وپرہیزگار ہو، گناہوں سے جان بچاتا ہو،

3۔ زاہد ہویعنی دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی طرف رغبت رکھنے والا ہو،

4۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والا ہو،

5۔ مشائخ کا صحبت یافتہ ہو۔

جس شخص کے اندر مذکورہ بالا صفات پائی جائیں،اس میں مرشد بننے کی صلاحیت موجود ہے،چنانچہ اصلاح کی نیت سے ایسے شخص کو مرشد بنایا جا سکتاہے۔ لیکن  جس شخص کے اندر یہ صفات نہ ہوں،تو ایسے شخص کو مرشد  بنانا  جائز نہیں۔

 

فشرط من يأخذ البيعة أمور أحدها علم الكتب والسنة، ۔ ۔ ۔ والشرط الثاني العدالة والتقوى، ۔ ۔ ۔ والشرط الثالث أ ن يكون زاهدا في الدنيا راغبا في الآخرة، ۔ ۔ ۔ والشرط الرابع أن يكون أمرا بالمعروف ناهيا عن المنكر، ۔ ۔ ۔ والشرط الخامس أن يكون صحبة المشائخ وتأدب بهم دهرا طويلا و أخذ منهم نورا لباطن والسكينة۔(شفاء العليل ترجمه القول الجميل، 30،23)


فتویٰ نمبر : 10096/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور