بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
نمازمیں قرآن کی ترتیب کے خلاف قراءت کرنا
سوال
اگرایک امام صاحب عشاء کی نماز میں سورۃ نبا کی آیت:31 سے تلاوت شروع کرے اورجب آیت نمبر36 پر پہنچ جائے تو پھر 28 نمبر آیت سے تیس تک تلاوت کرے اور رکوع میں چلا جائے تو کیا اس صورت میں نماز درست ہو گی یا اعادہ کرنا لازم ہے؟
جواب
فرض نماز میں قراء ت کے دوران آیات کریمہ کی ترتیب کی رعایت رکھنا قراءت کے واجبات میں سے ہے، نماز کے واجبات میں سے نہیں، لہذا قصدا قرآن مجید کی ترتیب کے خلاف قراءت کرنا مکروہ ہے، تاہم کراہت کے ساتھ نماز ادا ہو جائے گی اور اعادہ لازم نہ ہوگا، اور اگر سہواً ترتیب کے خلاف پڑھا تو نماز بلا کراہت درست ہو گی۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگر امام صاحب نے عشاء کی نماز میں سورت نبا کی آیت اکتیس(31)سے تلاوت شروع کی اورآیت نمبرچھتیس (36) پر پہنچ کرپھرآیت نمبر اٹھائیس (28) سے تیس (30) تک تلاوت کی تو اگر بھول کر اس طرح کیا ہو تو بلا کراہت نماز درست ہوئی اور اگر قصدا کیا ہو تو کراہت کے ساتھ نماز درست ہوئی، البتہ اعادہ کی ضرورت نہیں۔
(قوله وأن يقرأ منكوسا) بأن يقرأ في الثانية سورة أعلى مما قرأ في الأولى، لأن ترتيب السور في القراءة من واجبات التلاوة، وإنما جوز للصغار تسهيلا لضرورة التعليم۔۔۔ أفاد أن التنكيس أو الفصل بالقصيرة إنما يكره إذا كان عن قصد، فلو سهوا فلا كما في شرح المنية۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، فصل في القراءة، ج:1، ص:546)
وإذا قرأ في ركعة سورة وفي الركعة الأخرى أو في تلك الركعة سورة فوق تلك السورة يكره وكذا إذا قرأ في ركعة آية ثم قرأ في الركعة الأخرى أو في تلك الركعة آية أخرى فوق تلك الآية وإذا جمع بين آيتين بينهما آيات أو آية واحدة في ركعة واحدة أو في ركعتين فهو على ما ذكرنا في السور كذا في الخلاصة۔ هذا كله في الفرائض، وأما في السنن فلا يكره۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب الرابع في صفة الصلاة، الفصل الرابع في القراءة، ج:1، ص:269)