بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرنا


سوال

ایک شوہر کا اپنی بیوی کے ساتھ گھریلومعاملے  پر جھگڑا ہوا کچھ مار پیٹ بھی ہوئی اسی دوران وہ عورت کمرے میں موجود واش روم جانے لگی تو شوہر نے  بیوی سے غصے کی حالت میں کہا کہ مت جاؤ اگر تم ایک  گھنٹے کے اندر واش روم گئی تو تم مجھ پر طلاق ہو شوہر نے زبان سے یہ الفاظ نکالے اورارادہ بھی یہی تھا کہ بالکلیہ واش روم نہ جائے اس لئےمذکورہ بالا الفاظ مزید دو مرتبہ دہرائے تاکہ بیوی سمجھ جائے اور باتھ روم نہ جائے لیکن ابھی مذکورہ بالا کہے ہوئے الفاظ کے30 منٹ ہوئے تھے کہ بیوی واش روم کے اندر چلی گئی شوہر سے یہ عمل بغیر کسی پیشگی ارادہ کے غصے میں  سر زد ہوا لہذا آپ سے درخواست ہے کہ اس میاں اور بیوی کے درمیان ازدواجی رشتہ قائم رکھنا جائز ہے یا نہیں ؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرے تو شرط کے پائے جانے کی صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی اگر تین طلاق معلق  کی ہو ں تو تین طلاقیں واقع ہوں گی ۔

صورت مسئولہ کے مطابق جب شوہر نے غصے کی حالت میں بیوی سے تین مرتبہ  یہ کہا کہ" اگر تم ایک گھنٹے کے اندر واش روم گئی تو تم مجھ پر طلاق ہو" تو اس سے تینوں طلاقیں معلق ہو گئیں لہذا اس کے  بعد اگر بیوی ایک گھنٹے کے اندر واش روم چلی گئی ہو تو شرط پائے جانے کی وجہ سے تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں جس سے عورت مطلقہ مغلظہ ہو کر خاوند کے لئے حلال نہیں ۔

 

‌وقد ‌عرف ‌في ‌الطلاق أنه لو قال: إن دخلت الدار فأنت طالق، إن دخلت الدار فأنت طالق، إن دخلت الدار فأنت طالق وقع الثلاث، وأقره المصنف ثمة.(ردالمحتارعلى درالمختار، كتاب الطلاق، باب التعليق، ج:4، ص:638،639)


فتویٰ نمبر : 6970/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور