بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
گھروں میں لگائے گئے سی سی ٹی وی کیمرے میں نامحرم دیکھنا
سوال
گھروں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگوانے کی اجازت علماء نے دی ہے لیکن گھروں میں تو پوری فیملی رہتی ہے، اور کیمرہ کے سامنے تو غیر محرم مرد اورعورت دونوں آ سکتے ہیں اور گھر والے ان کو دیکھیں گے حالانکہ اسلام میں نہ کوئی مرد عورتوں کو اور نہ ہی کوئی عورت مردوں کو دیکھ سکتی ہے۔ اس کا وضاحت کے ساتھ جواب دیں۔
جواب
واضح رہے کہ جہاں چوری ڈکیتی یا جان اور مال کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو تو وہاں حفاظتی نقطہ نظر سے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کی شرعا اجازت ہے، نیز نامحرم کو دیکھنا اگر تلذذ اور شہوت کی بناء پر ہو تو ناجائزاور حرام ہے، البتہ اگر کسی ضرورت کی بناء پر دیکھنے کی حاجت پڑ جائے اور اس دیکھنے میں تلذذ وغیرہ نہ ہو تو اس کی گنجائش ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگرسی سی ٹی وی کیمرا گھر میں جان و مال کی حفاظت کے لیے لگایا گیا ہو تو شرعا جائز ہے۔ نیز اگر اس میں دیکھتے ہوئے بلا ارادہ غیر محرم پر نظر پڑ جائے تو کوئی مضائقہ نہیں، تاہم اس میں قصدا و عمدا غیرمحرم کا نظارہ نہ کیا جائے۔
)وأما بيان القسم الثالث) فنقول: نظر المرأة إلى الرجل الأجنبي كنظر الرجل إلى الرجل تنظر إلى جميع جسده إلا ما بين سرته حتى يجاوز ركبته، وما ذكرنا من الجواب فيما إذا كانت المرأة تعلم قطعا ويقينا إنها لو نظرت إلى بعض ما ذكرنا من الرجل لا يقع في قلبها شهوة، وأما إذا علمت أنه تقع في قلبها شهوة أو شكت ومعنى الشك استواء الظنين فأحب إلي أن تغض بصرها منه، هكذا ذكر محمد - رحمه الله تعالى - في الأصل، فقد ذكر الاستحسان فيما إذا كان الناظر إلى الرجل الأجنبي هو المرأة و فيما إذا كان الناظر إلى المرأة الأجنبية هو الرجل قال: فليجتنب بجهده، وهو دليل الحرمة، وهو الصحيح في الفصلين جميعا۔ ( الفتاوى الهنديه، كتاب الكراهية، الباب الثامن فيما يحل للرجل النظر إليه وما لا يحل له، ج:5، ص:328)
الضرورات تبیح المحذورات۔ (شرح المجلۃ، رقم المادۃ:21، ص:29)
الأمور بمقاصدها۔ (شرح المجلة، رقم المادة:2،ج:1، ص:17)
يتحمل الضرر الخاص لدفع ضرر عام۔۔۔الضرر الأشد يزال بالضرر الأخف۔۔۔يختار أهون الشرين۔ (شرح المجلة، رقم المادة:27، ج:1، ص:41)