بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تجدید ایمان کا طریقہ


سوال

 اگر کسی مسلمان سے ایک یا ایک سے زیادہ کفریہ الفاظ صادر ہوجائیں اور اس کو یاد بھی ہو ں تو توبہ میں ان کفریہ الفاظ کا دوہرانہ لازم ہوتا ہے يا نہیں ا ورتجد ید ایمان  کاطریقہ کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اپنےاختیار سے کفریہ کلمات  ادا کرنے سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے،خواہ وہ کلمات ایک دفعہ کہے ہوں یا  زیادہ مرتبہ ایسے شخص کا   ایمان ختم ہو جاتا ہے اور اس کے ذمے  لازم ہوتا ہے کہ فورا اپنے اسلام  کی تجدید کرے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگرکسی نے کفریہ الفاظ کہے ہوں توان  سے توبہ و استغفارکرلے اور کلمہ شہادت پڑھ  لے توبہ میں ان الفاظ کو دہرانےکی ضرورت نہیں اورتجدید ایمان کا طریقہ یہ ہے کہ کلمہ شہادت زبان سے پڑھے اور دل سے اس کی تصدیق کرے۔ نیزاگر کوئی کفریہ عقیدہ  اپنا چکا تھا تو دل اور زبان سے اس سے براءت کا اظہار کرے ۔

 

 قال الله تعالی: (یاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَى رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ وَمَنْ يَكْفُرْ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا)۔(النسآء:135)

ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح، وما فيه خلاف ‌يؤمر ‌بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح وظاهره أنه أمر احتياط.( رد المحتار، على الدر المختار،باب المرتد،ج:4،ص:230)

 قال في البحر والحاصل: ‌أن ‌من ‌تكلم ‌بكلمة ‌للكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده كما صرح به في الخانية ومن تكلم بها مخطئا أو مكرها لا يكفر عند الكل، ومن تكلم بها عامدا عالما كفر عند الكل۔.( رد المحتار، على الدر المختار،باب المرتد،ج:4،ص224)


فتویٰ نمبر : 5931/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور