بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

اریب نام رکھنا


سوال

اریب نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے ایسا اچھا اور بامعنی نام رکھنا  چاہیے جو اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لیے پسند کیا ہو ، یا نبی کریم ﷺ نے ذکر فرمایا ہو ، یا وہ مسلمانوں میں رائج ہواور اچھے معنی والا ہو اس کے علاوہ جو نام ایسا ہو کہ حضورﷺ یا حضرات صحابہ کرامؓ یا علما وصلحائے امت نے اسے استعمال نہ کیا ہو اور نہ ہی کسی اچھے معنی اور مفہوم والا ہو تو اس سے احتراز کرنا چاہیے۔

صورت  مسؤلہ کے مطابق "اَرِیْب" عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا معنٰی ہے"عقل مند، صاحبِ بصيرت، سمجھ دار"، لہذا یہ نام رکھنا درست ہے ۔

 

عن ‌أبي الدرداء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم".( سنن أبي داؤد،كتاب الأدب،باب في تغيير الأسماء ج:4،ص:442)

(أرب) العضو أربا قطع أو سقط من الجذام ونحوه ويقال منه أرب فلان وبالشيء كلف به ولزمه وفي الشيء وبه درب وصار ماهرا بصيرا وعليه بكذا قوي واستعانو وإليه احتاج وافتقر فهو أرب وأريب،(أرب) أرابة وإربا كان ذا دهاء وفطنة فهو أريب،(آرب) عليه إيرابا فاز وفلانا مؤاربة باراه وغالبه في الدهاء ونحوه يقال هو يؤارب أخاه ويقال مؤاربة الأريب جهل وعناء.(المعجم الوسيط، باب الهمزة، ج:1، ص:12)


فتویٰ نمبر : 5900/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور