بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

"رومال" استعمال کرنا


سوال

کیا رومال استعمال کرنا "سنت"ہے؟کیا اس کے استعمال کرنے سے "سنت" پر عمل کرنے کا ثواب ملے گا؟

جواب

کتب سیرت اور احادیث مبارکہ کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چادریا اس جیسا کپڑا استعمال فرمایاہے۔ چنانچہ حضرت انسؓ  سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ ﷺ  کے ساتھ چل رہاتھا اوراس وقت آپﷺ چوڑے حاشیہ کی ایک نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے۔اسی طرح ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ بنت صدیق ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک کپڑا ہوا کرتاتھا جس سے بعض اوقات وضو کے بعد اعضائے وضو پونچھ لیاکرتے تھے۔نیزاحادیث مبارکہ میں  رسول اللہ ﷺ کے بارے میں" رداء"(چادر) استعمال کرنے کا ذکر ہے جس کی لمبائی چار شرعی گز (تقریباً 6 فٹ)اور چوڑائی دوشرعی گزاورایک بالشت (تقریباًساڑھے تین فٹ) بیان ہوئی ہے، اس مقدارسے اندازہ ہوتاہے کہ وہ رومال "  کے مشابہہ ہوتا تھا۔ لہذا اگررومال کا استعمال اس نیت کے ساتھ کیا جائے کہ سروردوعالم حضرت محمد ﷺ نے اس جیسا کپڑا استعمال فرمایا ہے، تو باعث اجرو ثواب ہوگا۔ تاہم یہ سنن عادیہ میں سے ہے اس لیے اگر کوئی استعمال نہ کرے توتارکِ سنت نہیں کہلایا جائے گا۔

 

عن أنس بن مالك قال:كنت أمشي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليه برد نجراني غليظ الحاشية، فأدركه أعرابي فجبذ ‌بردائه جبذة شديدة، قال أنس: فنظرت إلى صفحة عاتق النبي صلى الله عليه وسلم وقد أثرت فيها حاشية الرداء من شدة جبذته، ثم قال: يا محمد مر لي من مال الله الذي عندك، فالتفت إليه فضحك، ثم أمر له بعطاء.(صحيح البخاري، كتاب الأدب، ج:5، ص:2260، رقم الحديث:5738)

عن عائشة، قالت: «كان لرسول الله صلى الله عليه وسلم خرقة ينشف بها بعد الوضوء».(سنن الترمذي، ج:1،ص:74، رقم الحديث:53)

وروى ابن سعد عن عروة بن الزبير رضي الله تعالى عنه أن طول رداء النبي صلى الله عليه وسلم أربعة أذرع، وعرضه ذراعان وشبر.وروى ابن عدي عن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبس ‌رداء ‌مربعا.(سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد،جماع أبواب سيرته صلى الله عليه وسلم في لباسه و ذكر ملبوساته، الباب التاسع في إزاره۔۔۔، ج:7،ص:307)

والمعتبر ‌ذراع الكرباس. كذا في الظهيرية وعليه الفتوى. كذا في الهداية وهو ‌ذراع العامة ست قبضات أربع وعشرون أصبعا. كذا في التبيين.(الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، ج:1، ص:18)


فتویٰ نمبر : 5892/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور