بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
ایکٹنگ((actingپر فخر کرنا
سوال
میں ایک ایکٹر فنکار کی انٹرویو سن رہا تھا پروگرام میں میزبان نے ایکٹر سے ایک سوال کیا کہ آپ اپنے فیلڈ میں بہت آگے جارہے ہواور دن بدن ترقی ہورہی ہے اس کے بارے میں آپ کے احساسات اور تاثرات کیا ہیں اور اس کا کام تو ایکٹنگ ہے جو کہ گناہ کا کام ہے تو جواب میں وہ کہہ رہا ہے کہ یہ میرے لیے فخر کی بات ہے کہ مجھے اس میدان میں بہت ترقی مل رہی ہے،تو کیا ایکٹنگ جو کہ گناہ ہے اس پر فخر کرنے سے آدمی کافر ہوتا ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ وہ کلمات جن میں کفر اور عدم کفر دونوں کا احتمال ہو تو حتی الامکان ان کلمات کو عدم کفر پر محمول کیا جائے گا اسی طرح جب کوئی شخص گناہ پر فخر کرے لیکن وہ اس گناہ کو حرام سمجھتا ہواور اس کا مقصود دین کی تحقیر و توہین نہ ہو بلکہ وہ دین سے لاعلمی کی وجہ سے گناہ پر فخر کرے تو ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا البتہ گناہ گار ہوگا۔
صورت مسئولہ کے مطابق ایکٹر کا جواب میں یہ الفاظ کہنا کہ "یہ میرے لیے فخرکی بات ہے کہ مجھے ایکٹنگ کے میدان میں بہت ترقی مل رہی ہے"عموماً اس سے دین کی استہزاء اورتحقیر مقصود نہیں ہوتی اور نہ وہ اس کو حلال سمجھتا ہےبلکہ جہالت و لاعلمی کی وجہ سے ایسے الفاظ کہتا ہےاس لیے دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا البتہ گناہ گار ہوگا۔
لا يفتى بتكفير مسلم مهما أمكن حمل كلامه على محمل حسن.(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر،كتاب السير،باب المرتد،ج:1،ص:688)
من اعتقد الحرام حلالا فإن كان حراما لغيره كمال الغير لا يكفر وإن كان لعينه فإن كان دليله قطعيا كفر وإلا فلا.(البحر الرائق،كتاب السير،ج:5،ص:132)
(قوله؛ لأنه حرام لغيره) أي حرمته لا لعينه، بل لأمر راجع إلى شيء خارج عنه وهو الإيذاء.قال في البحر عن الخلاصة: من اعتقد الحرام حلالا أو على القلب يكفر إذا كان حراما لعينه وثبتت حرمته بدليل قطعي. أما إذا كان حراما لغيره بدليل قطعي أو حراما لعينه بإخبار الآحاد لا يكفر إذا اعتقده حلالا.(ردالمحتار علی الدرالمختار،باب الحيض،ج:1،ص:281)