بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

جھوٹی گواہی دینے والوں کی گواہی کا حکم


سوال

مجھے جھوٹی گواہی کے متعلق سوال کا جواب اور فتویٰ چاہئے،  جس نے ایک جھوٹا بیان دیا اور وہ جھوٹا بھی ثابت ہوا، کیا ایسے بندے کی کسی اور جگہ دی گئی گواہی قبول ہوگی؟

جواب

جھوٹی گواہی دینا  گناہ کبیرہ  ہے ،احادیث مبارکہ میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں اس کی قباحت کے لیے یہ کافی ہے کہ آپﷺ نے تین بار جھوٹی گواہی کو شرک کے برابر جرم قرار دیا ہے ۔فقہائے کرام نے  مرتکب کبیرہ کی گواہی کو غیر معتبر قرار دیا  ہے،تاہم اگر کوئی  جھوٹی گواہی دینے کے بعد توبہ کرے تو توبہ کے بعد اس کی  گواہی  قبول کرنے کی گنجائش ہے۔

 

عن خريم بن فاتك، قال : صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح، فلما انصرف قام قائما، فقال: «عدلت ‌شهادة ‌الزور بالإشراك بالله» ثلاث مرار، ثم قرأ {فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور حنفاء لله غير مشركين به}۔(سنن أبي داؤد،باب في شهادة الزور،رقم الحديث:3599،ج:2،ص:150)

والمعروف بالعدالة إذا شهد بزور وتاب تقبل شهادته وعليه الاعتماد... وغير العدل إذا شهد بزور، ‌ثم ‌تاب ‌جازت شهادته، كذا في فتاوى قاضي خان.(الفتاوی الهندية،كتاب الشهادات،ج:3،ص:468)


فتویٰ نمبر : 5910/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور