بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
نصاب کے بقدر نقد رقم اور کپڑوں پرلگائے گئے چاندی کے نگینوں میں وجوب زکوٰۃ
سوال
ایک عورت کے پاس 15 لاکھ روپے اور قیمتی سوٹ ہیں جن کی قیمت بیس سے تیس ہزار روپے ہے جو صرف سال میں ایک دفعہ استعمال کرتی ہے،اوراس کے پاس ان پر لگائے گئے دو کلو چاندی کے نگینے ہیں تو یہ عورت زکوٰۃ کس طرح ادا کرےگی؟
جواب
واضح رہے کہ وجوب زکوٰۃ کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ نصاب کامل ہو یعنی ساڑھے سات تولہ سونا ،یا ساڑھے باون تولہ چاندی یااس کی قیمت کے برابر نقد رقم یا سامان تجارت ہو تو ایسے مال پر سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ لازم ہو گی۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی عورت کے پاس 15 لاکھ روپے اور قیمتی سوٹ اور کپڑوں پر لگائے گئے دو کلو چاندی کے نگینے ہوں ،تو استعمال کے کپڑوں پر تو زکوٰۃ واجب نہیں ،البتہ نقد رقم اور چاندی کے نگینوں پر سال گزر جانے کے بعد اس میں چالیسواں حصہ(ڈھائی فیصد) زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔
(وسببه)أى سبب افتراضها (ملك نصاب حولي نام فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) فارغ (عن حاجته الأصلية)لأن المشغول بها كالعدم۔(رد المحتار على الدرالمختار،كتاب الزكاة،ج:3ص:174)
وليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة؛ لأنها مشغولة بحاجته الأصلية وليست بنامية۔(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الزكاة،ج:2ص:262)