بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

گزشتہ سالوں کی زکوۃ کی ادائیگی


سوال

 آج کل میرا تعلق ایک دینی جماعت کے ساتھ بن چکا ہےاور گزشتہ گناہوں سے توبہ تائب ہوچکا ہوں لیکن گزشتہ  تین سال سے صاحب نصاب ہوں اور ابھی تک زکوۃ ادا نہیں کی ہے تو اب گزشتہ سالوں کی زکوۃ کی ادائیگی ضروری ہوگی  یا نہیں اور اس کو کس طرح ادا کیا  جائے؟

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی شخص بقدر نصاب مال کا مالک بن جائےتو جب تک وہ صاحب نصاب رہے تب تک اس پر ہر سال تمام اموالِ زکوۃ میں سے ڈھائی فیصد زکوۃ ادا کرنا لازم ہوتا ہے۔  اگر کسی نے صاحب نصاب بننے کے بعد کئی سال تک زکوۃ ادا نہ کی ہو تو اس پر گزشتہ تمام سالوں کی زکوۃ ادا کرنا ضروری ہوگا، اور اس کی ادائیگی  کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے سال کی زکوۃ کے لیے اس سال موجود تمام اموال زکوۃ (سونا، چاندی، نقدی اور مالِ تجارت وغیرہ)سے ڈھائی فیصد کا حساب لگا لیاجائے، پھر اگلے سال  کے اموال سے گزشتہ سال کے ڈھائی فیصد کو منفی کرکے بقیہ مال کے ڈھائی فیصد کا حساب لگا لیا جائے، اسی طرح ہرسال کی زکوۃ کا حساب لگانے کے لیے اس سے پچھلے سال کی زکوۃ کو منفی کر کے بقیہ مال کے ڈھائی فیصد کا حساب لگایا جائے، اور پھر تمام سالوں کی واجب شدہ زکوۃ کا مجموعہ ادا کیا جائے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق  اگر  سائل گزشتہ تین سالوں سے صاحب نصاب رہا ہے، اور ابھی تک زکوۃ  ادا نہیں کی ہے تو اس پر درجہ بالا طریقہ کے مطابق تینوں سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنا  ضروری  ہے۔

(‌ولو ‌كان ‌الدين ‌على ‌مقر مليء أو) على (معسر أو مفلس)۔۔۔(فوصل إلى ملكه لزم زكاة ما مضى) ۔۔۔ (وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة (أو السوم) بقيدها الآتي (أو نية التجارة) في العروض، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجيء. (ردالمحتار علی الدر المختار، کتاب الزکوۃ، ج:2، ص:267)

رجل ‌له ‌ألف ‌درهم ‌لا ‌مال ‌له ‌غيرها استأجر بها دارا عشر سنين لكل سنة مائة فدفع الألف، ولم يسكنها حتى مضت السنون والدار في يد الآخر يزكي الآجر في السنة الأولى عن تسعمائة، وفي الثانية عن ثمانمائة إلا زكاة السنة الأولى ثم سقط لكل سنة زكاة مائة أخرى، وما وجب عليه بالسنين الماضية۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، مسائل شتى في الزكوة، ج:1، ص:181)

وبيان ذلك أنه إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرين مثقال ذهب فلم يؤد زكاته سنتين يزكي السنة الأولى، وليس عليه للسنة الثانية شيء عند أصحابنا الثلاثة۔۔۔ وكذا هذا في مال التجارة، وكذا في السوائم۔ (بدائع الصنائع، کتاب الزکوۃ، الشرائط التي ترجع على من عليه المال، ج:1،ص:387)


فتویٰ نمبر : 10071/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور