بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

انسانی اعضاء کو عطیہ کرنا یا ان کی وصیت کرنا


سوال

کیا انسان اپنی مرضی اور خوشی کے ساتھ مرنے سے پہلے بدن کے کسی جزء کو مفاد عامہ کی خاطر دوسرے انسان یا ادارے کو  عطیہ کر سکتا ہے؟ اوریا ایسی وصیت کر سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

طب کے میدان میں ترقی کی وجہ سے یہ بات ممکن ہو گئی ہے کہ ایک انسان کا کوئی عضو دوسرے انسان کے جسم میں لگایا جائے، چونکہ آج کل بعض بیماریوں میں اس طرح کے علاج کی  ضرورت ہوتی ہے ،اس لئے درج ذیل شرائط کا لحاظ رکھا جائےتو بوقت ضرورت اعضا کے عطیہ کرنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے:

1:مریض کو شدید ضرورت ہو،اورآدمی اپنی مرضی سے عضو  عطیہ کررہا ہو ۔

2:عضو دینے سےخود اس کو نقصان نہ پہنچتا ہو،اس لیے کہ یہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔

3:مریض کے علاج کے لیے اس کے علاوہ کوئی اورچارہ نہ ہو۔

4:اس طریقہ علاج سے صحت کی بحالی کا یقین یا غالب گمان ہو۔

5:عضو عطیہ کرنے کا مقصد صرف مریض کی جان بچانا ہو،کوئی مالی مفادات مقصود نہ ہوں۔

اور جہاں تک اعضاکی وصیت کا تعلق ہے تو چونکہ وصیت جس چیز میں کی جاتی ہے اس کا مال ہوناضروری ہے، اور انسانی اعضا مال نہیں اس لیے اپنے اعضا کی وصیت کا شرعاًاعتبار نہیں ۔

‌               

"يجوز ‌للعليل ‌شرب ‌الدم والبول وأكل الميتة للتداوي إذا أخبره طبيب مسلم أن شفاءه فيه، ولم يجد من المباح ما يقوم مقامه... أدخل المرارة ‌في ‌أصبعه ‌للتداوي قال أبو حنيفة - رحمه الله تعالى - لا يجوز وعند أبي يوسف - رحمه الله تعالى – يجوز، وعليه الفتوى كذا في الخلاصة."(الفتاوى الهندية، الباب الثامن في التداوي والمعالجات، ج:5، ص:355-356)

"وأما الذي يرجع إلى الموصىٰ به فأنواع، منها: أن يكون مالا أو متعلقا بالمال؛ لأن الوصية إيجاب الملك أو إيجاب ما يتعلق بالملك من البيع، والهبة، والصدقة، والاعتاق، ومحل الملك هو المال، فلا تصح الوصية بالميتة، والدم من أحد، ولأحد؛ لأنهما ليسا بمال في حق أحد، ولا بجلد الميتة قبل الدباغ، وكل ما ليس بمال.(بدائع الصنائع، كتاب الوصايا، ج:10، ص:522)

"الضرورات تبيح المحظورات،أي:الأشياء الممنوعةتعامل كالأشياء المباحة وقت الضرورة.(شرح المجلة، سليم رستم باز،المقالة الثانية في بيان القواعد الفقهية، مادة:21، ج:1، ص:29


فتویٰ نمبر : 5890/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور