بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
بالغ مرد کے ہوتے ہوئے نابالغ کا اذان دینا
سوال
ہماری مسجد میں اذان کے وقت بالغ مردموجود ہونے کے باوجود نابالغ بچہ اذان دیتا ہے تو کیا ایساکرنا جائز ہے؟کیا بچے کی اذان دینے کی صورت میں لوٹایا جائے گا یا نہیں ؟
جواب
اذان دینےکے لیے مؤذن کا بالغ ہونا ضروری نہیں، بچہ اگر عاقل اور ممیز ہو تو وہ بھی اذان دے سکتا ہےاس کی اذان بغیر کراہت کے درست ہے، البتہ بالغ آدمی کا اذان دینا بہتر ہے ۔اور بچہ اگر اتنا چھوٹا ہو کہ وہ اپنے فائدہ اور نقصان کی تمیز نہ کرسکتا ہو تو اس کی اذان ناجائز ہے، اس کا اعادہ ضروری ہے ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر مسجد میں بالغ مردکے ہوتے ہوئےکوئی ایسا نابالغ بچہ اذان دےجو سمجھ دار ہوتو ایسےنابالغ کی اذان دینے میں کوئی حرج نہیں ہے،لیکن اگربچہ ناسمجھ ہےتو اس کا اذان دینا ناجائز ہے،اس اذان کو لوٹایاجائےگا۔
"أذان الصبي العاقل صحيح من غير كراهة في ظاهر الرواية ولكن أذان البالغ أفضل وأذان الصبي الذي لايعقل لايجوز، ويعاد وكذا المجنون. هكذا في النهاية"۔(الفتاوى الهندية،كتاب الصلاة، الباب الثانی فی الأذان،ج:1،ص:54)