بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
سنبل نام رکھنا
سوال
میری بیوی کا نام "سنبل" ہے، براہ کرم اس نام کا معنی بتادیں،نیزایسا نام رکھنا کیا جائز ہے؟
جواب
شرعی نقطہ نظر سے ایسا اچھا اور بامعنی نام رکھنا نہایت اہم اور ضروری ہے جو اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لیے پسند کیا ہو، یا نبی کریم ﷺ نے ذکر فرمایا ہو ، یا وہ مسلمانوں میں رائج ہواور اچھے معنی والا ہو اس کے علاوہ جو نام ایسا ہو کہ حضورﷺ یا حضرات صحابہ کرامؓ یا علما وصلحائے امت نے اسے استعمال نہ کیا ہو اور نہ ہی کسی اچھے معنی اور مفہوم والا ہو تو اس سے احتراز کرنا چاہیے ۔
"سنبل" کا معنی ہے"گیہوں کا خوشہ یا ایک قسم کا خوشبودار پودا"۔ یہ نام معنی کے لحاظ سے درست ہے، لہذا یہ نام رکھنا جائز ہے۔
"وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل" .(الفتاوى الهنديه،كتاب الكراهية ، الباب الثاني والعشرون في تسمية الأولاد، ج:5 ص:362)
"(السنبل) جزء النبات الذی یتکون فیه الحب والناردین وھو نبات یستخرج من جذور بعض أنواعه عطر مشھور (ج)سنابل"۔(المعجم الوسیط، باب السین، ج:1، ص:453)
"السنبل: خوشه گیهوں وغیرہ،بالی ایک خوشبو دار پودا، ج: سنابل"۔(القاموس الوحید، مادہ: سنب،ص: 807)