بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
قرآن مجید کی تلاوت اور ذکر کرنے والے کے لیے سلام کا جواب دینا
سوال
اگر کوئی شخص قرآن مجید کی تلاوت کر رہا ہو یا ذکر واذکار کر رہا ہو، اس کو کوئی سلام کرے تو اس پر سلام کا جواب دینا واجب ہے یا نہیں؟
جواب
کسی مسلمان کو سلام کرنا سنت ہے ، جب کہ اس کا جواب دینا واجب ہے ۔ البتہ فقہاے کرام نے کچھ مواقع ایسے ذکر کیے ہیں جن میں سلام کرنا مکروہ ہے،مثلاً: نمازی کو ، تلاوت کرنے والے کو،ذکر کرنے والے کو،حدیث بیان کرنے والے کو ،خطیب كو،اور اگر کسی نے ان اعمال میں مشغول شخص کو سلام کرلیا تواس پرسلام کا جواب دینا واجب نہیں ۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص قرآن مجید کی تلاوت یا ذکرواذکار میں مشغول ہو اوراس کو کوئی سلام کرے تواس پر سلام کا جواب دینا واجب نہیں ۔
سلامك مكروه على من تسمع .... ومن بعد ما أبدى يسن يشرع،مصل وتال ذاكر ومحدث ..... خطيب ومن يصغي ?ليهم ويسمع،مكرر فقه جالس لقضائه ... ومن بحثوا في العلم دعهم لينفعوا...( البحرالرائق،باب الحدث في الصلاة،باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،الفتح على غير إمامه في الصلاة،ج:٢،ص:١٠)
لا يجب فيها رد السلام ونقلها عنه الشارح في هامش الخزائن فقال: رد السلام واجب إلا على … من في الصلاة أو بأكل شغلا أو شرب أو قراءة أو أدعيه … أو ذكر أو في خطبة أو تلبيه...( ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الصلاة،باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:١،ص:٦١٨)