بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
نص قطعی سے ثابت شدہ گناہوں پر فخر کرنا
سوال
اگر کسی شخص کو یہ مسئلہ بھی معلوم ہو کہ قطعی حرام کو حلال سمجھنا کفر ہے اور وہ قطعی گناہ کرتا ہے اور اس گناہ پر کسی سبب سے یا بغیر کسی سبب کے فخر کرتا ہے لیکن وہ اس گناہ کو حرام سمجھتا ہے اور اس گناہ کی استہزاء اور استخفاف بھی مقصد نہ ہو بلکہ اس کا عقیدہ یہ ہو کہ گناہ حرام ہے لیکن وہ گناہ فخریہ طور پر کرتا ہو ،تو کیا یہ شخص کافر ہے یا فاسق؟نیز اگر کوئی شخص گناہ کر کے یہ الفاظ بولے"میں نے جو کیا اچھا کیا "اور ان الفاظ سے مقصود دین کا استہزاء نہ ہو تو ایسا شخص کافر ہے یا فاسق؟
جواب
واضح رہے کہ گناہ اللہ کی نافرمانی اور ناراضگی کا ذریعہ ہے ،جبکہ ان گناہوں کو فخریہ طور پر کیا جائے تو ایسے گناہ کی شناعت مزید بڑھ جاتی ہے اور اس سے توبہ کے امکانات کم رِہ جاتے ہیں تاہم اگر ان کا مرتکب ان گناہوں کو تو حلال نہ سمجھتا ہو تو وہ کافر نہ ہو گا۔نیز اگر کوئی شخص گناہ کر کے یہ الفاظ بولے"میں نے جو کیا اچھا کیا" اور اس سے مقصود دین کا استہزا نہ ہو بلکہ اپنی جہالت اور بے دینی اور بے توجہی کی وجہ سے ایسے کلمات بولے ہوں تو اس سے کفر لازم نہیں آتا ،البتہ توبہ و استغفار کرنا لازم ہے۔
مطلب استحلال المعصية القطعية كفر لكن في شرح العقائد النسفية: استحلال المعصية كفر إذا ثبت كونها معصية بدليل قطعي، وعلى هذا تفرع ما ذكر في الفتاوى من أنه إذا اعتقد الحرام حلالا، فإن كان حرمته لعينه وقد ثبت بدليل قطعي يكفر وإلا فلا بأن تكون حرمته لغيره أو ثبت بدليل ظني. وبعضهم لم يفرق بين الحرام لعينه ولغيره وقال من استحل حراما قد علم في دين النبي عليه الصلاة والسلام تحريمه كنكاح المحارم فكافر۔(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الزكاة،ج:2ص:292)