بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
گناہ پر فخر کرنا
سوال
اگر کوئی شخص استخفاف دین کی نیت اور عقیدے کے بغیر گناہ پر فخر کرے تو اس سے خود بخود استخفاف دین آتا ہے یا نہیں نیز وہ شخص جو گناہ کو فخریہ طور پر کرتا ہے لیکن وہ ہر گناہ کو حرام سمجھتا ہے اور اس کا عقیدہ ہوتا ہے کہ گناہ حرام ہے ،تو کیا ایسا شخص کافر ہے یا فاسق؟
جواب
واضح رہے کسی کو کافر قرار دینا ایک سنگین مسئلہ ہے،اس لئے اس معاملے میں انتہائی احتیاط سے کام لینا ضروری ہے ۔بنیادی طور پر کوئی بھی مسلمان جب تک وہ علانیہ طور پر دین پر عمل پیرا ہو تو اسے مسلمان ہی سمجھا جائے گا، یہاں تک کہ شرعی دلائل کی رو سے اس کا دائرہ اسلام سے خارج ہونا ثابت ہو جائے۔
لہذا استخفاف دین کی نیت کے بغیر فخریہ اور اعلانیہ طور پر گناہ کرنا جبکہ اس گناہ کی وجہ سے دین کی توہین نہ ہو رہی ہو تو یہ استخفاف دین کے زمرے میں نہیں آتا ، البتہ گناہ کو فخریہ طور پر کرنا نہایت جرات کی بات ہے ،ایسا کرنا آخرت میں شدید پکڑ کا باعث ہے ۔لہذا اگر وہ گناہ کو حرام سمجھنے کے باوجود اس گناہ کو فخریہ طور پر کرتا ہو تو ایسا شخص گناہ کرنے اور اس پر فخر کرنے کی وجہ سے گنہگار ہو گا کافر نہیں۔
والأصل أن من اعتقد الحرام حلالا فإن كان حراما لغيره كمال الغير لا يكفر.وإن كان لعينه فإن كان دليله قطعيا كفر وإلافلا۔(البحرالرائق،كتاب السير،ج:5ص:132)
مطلب استحلال المعصية القطعية كفر لكن في شرح العقائد النسفية: استحلال المعصية كفر إذا ثبت كونها معصية بدليل قطعي، وعلى هذا تفرع ما ذكر في الفتاوى من أنه إذا اعتقد الحرام حلالا، فإن كان حرمته لعينه وقد ثبت بدليل قطعي يكفر وإلا فلا،(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الزكاة،ج:2ص:292)
أنا الأوزاعي سمعت بلال بن سعد يقول إن المعصية إذا خفيت لم تضر إلا صاحبها وإذا أعلنت فلم تغير ضرت العامة. وفي رواية ابن بشران إن الخطيئة إذا خفيت لم تضر إلا عاملها وإذا ظهرت ضرت العامة۔(شعب الإيمان، أحاديث في وجوب الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر،ج:6ص:99)