بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
مناسخہ کی ایک صورت
سوال
عبدالسلام کا انتقال ہوا ،اس کے ورثاء میں دو(2) بیٹے عبد الکریم اور عبد الصمد تھے۔پھر بیٹا عبد الکریم کا انتقال ہوا ،اس کے ورثاء میں بیوہ مسماۃ زبیدہ، ایک بیٹا منیب اور ایک بیٹی شازیہ تھی جو والد کی زندگی میں وفات پائی ۔پھر بیٹے عبد الصمد کا انتقال ہوا ،اس کے ورثاء میں پانچ بیٹے اکرم،عدنان،عمیر،شہاب اور فہد ہیں اور دو بیٹیاں شمائلہ اور سمیرہ ہیں۔عبد السلام مرحوم کا ترکہ مذکورہ ورثاء میں کس حساب سے تقسیم ہوگا؟
جواب
میـ(عبد السلام)ــ(48)ــــــــت
بیٹا بیٹا
عبد الکریم عبدالصمد
میـــــ(عبد الکریم)ـــــــــــــت
بیوہ بیٹا
زبیدہ منیب
3 21
میــــــــ(عبد الصمد)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی
اکرم عدنان عمیر شہاب فہد شمائلہ سمیرہ
4 4 4 4 4 2 2
الاحیـــــــــــــــــــــــــ(48)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــاء
زبیدہ منیب اکرم عدنان عمیر شہاب فہد شمائلہ سمیرہ
3 21 4 4 4 4 4 2 2
بشرط صدق وثبوت اگر عبد السلام مرحوم کے مذکورہ بالا ورثاء کے علاوہ اور کوئی قریبی وارث زندہ موجود نہ ہو اور اموات بھی درجہ بالا ترتیب سے ہوئی ہوں ،تو بعد از ادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ (48)حصوں میں تقسیم ہو کر زبیدہ کو 3/48 حصے،منیب کو 21/48 حصے ، اکرم،عدنان،عمیر،شہاب اور فہد میں سے ہر ایک کو 4/48 حصے اور شمائلہ اور سمیرہ میں ہر ایک کو 2/48 حصے ملیں گے،جبکہ عبد الکریم مرحوم کی بیٹی ، جووالد کی زندگی میں وفات ہوئی ہے اس لیے اس کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں بنتا۔
قال الله تعالى:﴿فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ﴾ (النساء:١٢)
أما العصبة بنفسه:فكل ذكر لا تدخل في نسبته إلى الميت أنثى،وهم أربعة أصناف:جزء الميت،وأصله،وجزء أبيه،وجزء جده.الأقرب فالأقرب،يرجحون بقرب الدرجة،أعني أولاهم بالميراث جزء الميت أي البنون ثم بنوهم وإن سفلوا...الخ(السراجي في الميراث،باب العصبات،أحوال العصبة بنفسه،ص:36)