بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

قربانی کی کھال مسجد کو دینے کا لوگوں کو پابند بنانا


سوال

عید الاضحٰی کے دن محلے کی مسجد کے متولی نے  مسجد میں کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ اس دفعہ قربانی کی کھال ہر بندہ مسجد کو دے گا،اور اگر کسی نے نہیں دیا  تو ایسے شخص پر اس کے بدلے پیسے لازم ہوں گے،آیا  شریعت کی رو سے متولی کا اعلان کرنا اور کھال مسجد کو نہ دینے کی صورت میں پیسے لازم کرنا  شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے ہر شخص کو اپنی ملکیت میں اپنی صوابدید کے مطابق  جائز تصرف کا مکمل اختیار حاصل ہے ، کسی دوسرے کو اس کی ملکیت میں تصرف کا اختیار حاصل نہیں  اور نہ دوسرا کوئی کسی کو   تصرف کا پابند بنا سکتا ہے ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق مسجد کے متولی کا مسجد کے لوگوں کو پابند بنانا کہ ہر بندہ قربانی کی کھال مسجد کو دے گا ،نہ دینے کی صورت میں  ایسے شخص پر پیسے لازم ہو ں گے ، شرعاً ایسا مطالبہ کرنا  جائز نہیں ۔کیونکہ شریعت نے قربا نی  کرنے والے کو   قربانی کی کھال فروخت کرنے سے پہلے تین قسم کے اختیارات  دیے  ہیں کھال    ذاتی استعمال میں لانا يا ہبہ کرنا  يا صدقہ کرنا ۔تاہم اگرقربانی کی کھال فروخت کی جائے  تو اس کی قیمت ان لوگوں پر صدقہ کرنا ضروری ہے جومستحق  زکوۃ ہوں ۔

 

‌للمالك ‌أن ‌يتصرف ‌في ‌ملكه أي تصرف شاء.(بدائع الصنائع، كتاب الدعوى، فصل في أحكام الملك والحق الثابت في المحل، ج:8، ص:509)

ويتصدق بجلدها أو يعمل منه ‌نحو ‌غربال وجراب، ولا بأس بأن يشتري به ما ينتفع بعينه مع بقائه استحسانا وذلك مثل ما ذكرنا، ولا يشتري به ما لا ينتفع به إلا بعد الاستهلاك نحو اللحم والطعام، ولا يبيعه بالدراهم لينفق الدراهم على نفسه وعياله، واللحم بمنزلة الجلد في الصحيح حتى لا يبيعه بما لا ينتفع به إلا بعد الاستهلاك.ولو باعها بالدراهم ليتصدق بها جاز؛ لأنه قربة كالتصدق، كذا في التبيين.(الفتاوى الهندية، كتاب الاضحية، الفصل السادس في بيان ما يستحب في الاضحية و الانتفاع بها، ج:5، ص:347)


فتویٰ نمبر : 10061/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور