بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
آئس استعمال کرنے کا حکم
سوال
آئس نشہ کا استعمال کرنا کیسا ہے؟
جواب
شریعت مطہرہ کی روسے انسان اپنے بدن اور صحت کا مالک نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی امانت ہے چنانچہ صحت،عقل اور بدن کے لیے جو چیزیں یقینی طور پر ضرررساں ہوں ان کا استعمال شرعاً جائز نہیں۔
صورت مسئولہ کے مطابق آئس جسے ”کرسٹل میتھ “بھی کہتے ہیں ایک کیمیائی عمل سے تیار کردہ خطرناک نشہ ہے جو انسانی صحت کے لیے نہایت مضر ہے، لہذا اس کا استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں۔
﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ﴾ (البقرة:195)
(ويحرم أكل البنج والحشيشة).هي ورق القنب (والافيون) لانه مفسد للعقل ويصد عن ذكر الله وعن الصلاة (لكن دون حرمة الخمر، فإن أكل شيئا من ذكل لا حد عليه وإن سكر) منه (بل يعذر بما دون الحد) كذا في الجوهرة.(الدرالمختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الاشربة، ص:678)