بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
ایموجیزایک دوسرے کو بھیجنا
سوال
جو لوگ اموجی ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں ، ان اموجی کے بارے میں کیا حکم ہے کیا یہ تصویر کے مانند سمجھ کر ناجائز ہیں یا اس بارے میں کیا حکم ہے ؟
جواب
واضح رہے کہ موبائل وغیرہ میں استعمال ہونے والی ایموجیز (ایسی تصاویر جو کیفیت کے اظہار کے لیے ہوتی ہیں، ان ) میں سے بعض ایسی ہیں جو نہ جاندار کی ہیں اور نہ جاندار کے مشابہ ہیں، جیسے: پہاڑوں ، دریاؤں ،سورج ، چاند ،ستاروں، درختوں ، جنگلوں اور قدرتی مناظر واشیا کی تصاویر ،ان کا استعمال جائز ہے ۔اسی طرح جو تصاویر جاندارکے چہرے کے علاوہ دیگر اعضاء (مثلاً: انگلی ،ہاتھ، پاؤں) پر مشتمل ہوں ان کے استعمال کی بھی اجازت ہے۔ البتہ جو تصاویر جاندار کے چہرے کی پوری شکل صورت پر مشتمل ہوں یعنی اس میں سر ،آنکھ ،ناک ،منہ ، کان وغیرہ انسان یا کسی اور جاندار کی شکل میں ہو تو ان کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔
عن عبد الله بن مسعود قال:سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: (إن أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة المصورون).(صحيح البخاري، باب: عذاب المصورين يوم القيامة،رقم الحديث:٥٦٠٦)
وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيره. (ردالمحتار على الدرالمختار، فرع لا بأس بتكليم المصلي وإجابته برأسه،ج:١،ص:٦٤٤)