بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

پانچ ماہ کا حمل ضائع کرنا


سوال

ایک عورت نے پانچ ماہ کا حمل ضائع کیا ہے ،اس کا کفارہ کیا ہے؟

جواب

ماں کے رحم میں جب حمل ٹھہر جائے تو اس کو ضائع کرنا جائز نہیں ،بالخصوص جب یہ حمل چار ماہ کا ہو جائے ،کیونکہ چارماہ میں بچے کے سارے اعضاء مکمل ہو جاتے ہیں اور اس کے اندر روح ڈال دی جاتی  ہے،اس لیے اس حمل کا ضائع کرنا  خواہ شوہر کی اجازت سے ہو یا بغیر اجازت ،بہرحال  ناجائزہے،  البتہ اگر یہ حمل شوہر کی رضامندی سے ضائع کیا گیا  ہو تو عورت پر کوئی  مالی کفارہ  نہیں  لیکن اگر شوہر کی اجازت کے بغیر حمل ضائع کیا ہو تو   ایسی عورت  کے عاقلہ پر بطور جرمانہ ایک غرہ ( پانچ سو درہم=1530گرام چاندی =131تولے چاندی   یا  اس کی قیمت  )ادا کرنا لازم ہے،جو بچے کے شرعی ورثا کے درمیان میراث کے  اصول کے مطابق تقسیم کیا جائے گا ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر عورت نے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر حمل ضائع کیا ہے تو اس  عورت کے عاقلہ پر  بطور جرمانہ غرہ (پانچ سو درہم =1530 گرام چاندی =131 تولے چاندی یا اس کی قیمت) دینا لازم ہے،البتہ اگر شوہر کی رضامندی سے حمل ضائع کیا ہو تو اس صورت میں اس عورت پر کوئی کفارہ   نہیں۔

 

قال اللہ تعالى:وَ لَا تَقْتُلُـوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍؕ۔(سورة الإسراء،31)

عن أبي هريرة؛ أنه قال:قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في ‌جنين ‌امرأة ‌من ‌بني ‌لحيان، سقط ميتا، بغرة: عبد أو أمة. ثم إن المرأة التي قضي عليها بالغرة توفيت. فقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم بأن ميراثها لبنيها وزوجها. وأن العقل على عصبتها۔(صحيح مسلم،كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات،ج:3ص:1309)

وإن ‌أسقطت ‌بعد ‌ما ‌استبان ‌خلقه ‌وجبت ‌الغرة كذا في فتاوى قاضي خان۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراھیۃ،ج:5ص:356)

(‌وإن ‌شربت ‌دواء لتطرحه أو عالجت فرجها حتى أسقطته ضمن عاقلتها الغرة إن فعلت بلا إذن)۔۔۔ بخلاف ما إذا فعلت ذلك بإذن الزوج حيث لا تجب الغرة لعدم التعدي۔(البحر الرائق،کتاب الدیات،ج:8ص:391)


فتویٰ نمبر : 5874/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور