بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

زکوۃ کی رقم سے مسجد میں سولر سسٹم لگانا


سوال

ہمارا بہت بڑا کاروبار ہے اور ہم ہر سال پابندی سے زکوۃ ادا کرتے ہیں، اس مرتبہ ارادہ کیا ہے  کہ زکوۃ کی رقم سےمحلے کی مسجد میں سولر سسٹم لگادیں گے، لیکن  کسی نے منع کیا کہ زکوۃ کی رقم سے مسجد میں سولر سسٹم لگانا درست نہیں، اب پوچھنا یہ ہے کہ زکوۃ کی رقم سے مسجد میں کوئی چیز لگانا درست ہے یا نہیں؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے زکوۃ کی ادائیگی میں مستحقین کو مالک بنانا ضروری ہے، چنانچہ زکوۃ کی رقم سے مسجد کے لیے کوئی چیز خریدنا جائز نہیں، کیونکہ اس میں مستحق کو مالک بنانے کی شرط پر عمل نہیں ہوتا۔

صورت مسئولہ کےمطابق زکوۃ کی رقم سے مسجد میں سولر سسٹم لگادینے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی، البتہ اگرکسی مستحق زکوۃ کو اس  رقم کا مالک بنایا جائے اور وہ  اپنی مرضی سے پوری رقم یا اس رقم کا کچھ حصہ مسجد  کے لیے سولر سسٹم لگانے میں خرچ کرے تو شرعا اس کی گنجائش پائی جاتی ہے۔

 

ولا یجوز ان یبنی بالزکوۃ المسجد وکذا القناطر والسقایات واصلاح الطرقات وکری الانھار وکل مالا تملیک فیہ۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الزکاۃ،ج1ص188)

وقدمنا ان الحیلۃ ان یتصدق علی الفقیر ثم یامرہ بفعل ھذہ الاشیاء وقال ابن عابدین ویکون لہ ثواب الزکوۃ وللفقیر ثواب ھذہ القرب۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الزکوۃ،باب المصارف،ج3ص293)


فتویٰ نمبر : 10051/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور