بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
وقوع طلاق کے لیے عورت کا الفاظ طلاق سننا
سوال
اگرزوجین میں تنازع اور اختلاف ہونے کے بعد دونوں کے درمیان جھگڑا ہوجائے اور شوہر غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کی غیر موجودگی میں اسے زبانی طور پر تین طلاقیں دے لیکن بیوی نے طلاق کے الفاظ نہ سنے ہوں، تو کیا اس سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟
جواب
شریعت نے طلاق کا اختیار شوہر کو دیا ہے اور طلاق واقع ہونے کے لیے عورت کا موجود ہونا یا طلاق کے الفاظ کو سننا ضروری نہیں، بلکہ شوہر کے کہنے سے ہی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر شوہر بیوی کی غیر موجودگی میں اسے تین طلاقیں دے تو اس سے بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی، چاہے طلاق کے الفاظ بیوی نے سنے ہو یا نہیں ۔
قال اللہ تعالیٰ : فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُ۔ (البقرۃ:230)
وقال ايضاّ : الَّذِي بِيَدِهِ عُقۡدَةُ النِّكَاحِۚ۔ (البقرة:237) والذي بيده عقدة النكاح عندنا هو الزوج وهو قول ابن عباس وشريح....وظاهر الآية يدل على ذلك لأن الذي بيده عقدة النكاح من يتصرف بعقد النكاح. (المبسوط للسرخسي، كتاب الطلاق، ج:6،ص:63)