بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
کپڑے گم ہونے کی صورت میں درزی سے تاوان لینا
سوال
اگر کوئی شخص درزی کو کپڑے سلوانے کے لیے دے اور مقررہ تاریخ پر کپڑے لینے کے لیے جائے اور درزی کہے کہ آپ کے کپڑے گم ہوئے ہیں حالانکہ نہ دوکان سے چوری ہوئی ہے اور نہ کوئی دوسری آفت وغیرہ آئی ہے لیکن وہ کہتا ہے کہ ہم جس طرح دوسرے لوگوں کے کپڑوں کی حفاظت کرتے ہیں اور دوکان میں جس جگہ رکھتے ہیں اس طرح آپ کے کپڑوں کا بھی خیال رکھا ہے اور اسی جگہ میں رکھے تھے، توکیا اس صورت میں اس سے تاوان لینا درست ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص متعدد لوگوں کو اجرت کے عوض خدمات دے رہا ہو، تو فقہا کی اصطلاح میں اس کو اجیر مشترک یا اجیرعام کہا جاتاہے، اگر اجیر مشترک سے بلا تعدی غلطی سے کسی کا مال ضائع ہو جائے تو مفتی بہ قول کے مطابق ضامن ہوگا البتہ اگر کسی ایسی وجہ سے مال ہلاک ہو جائے جس سے اجیر مشترک کے لیے احتراز ممکن نہ ہوتو ایسی صورت میں ضامن نہ ہوگا۔
صورت مسؤلہ کے مطابق چونکہ درزی کی حیثیت اجیر مشترک کی ہے اس لیے اگر کوئی شخص درزی کو کپڑے سلوانے کے لیے دے اور درزی سے گم ہو جائیں تو درزی سے تاوان لینا درست ہے البتہ اگرکسی ایسی وجہ سے گم ہو ئے ہوں جس سے درزی کے لیے بچنا ممکن نہ تھا تو پھر تاوان لینا درست نہیں۔
(الأجراء على ضربين: مشترك، و خاص. فالأول: (من يعمل لا لواحد) كالخياط و نحوه ( أو يعمل له عملا غير موقت) كأن استأجره للخياطة في بيته غير مقيدة بمدة كان أجيرا مشتركا و ان لم يعمل لغيره (أو موقتا بلا تخصيص) كأن استأجره ليرعى غنمه شهرا بدرهم كان مشتركا، إلا أن يقول: ولا ترعى غنم غيري. (تنوير الأبصار مع الدرالمختار، كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، ج: 9، ص: 78)
قال رحمه الله (والمتاع في يده غير مضمون بالهلاك) سواء هلك بسبب يمكن التحرز عنه كالسرقة أو بما لا يمكن كالحريق الغالب والغارة المكابرة، وهذا عند أبي حنيفة وزفر والحسن بن زياد رحمهم الله وهو القياس، وقالا يضمن إلا إذا هلك بأمر لا يمكن التحرز عنه؛ لأن عمر وعليا رضي الله عنهما كانا يضمنان الأجير المشترك ولأن المعقود عليه الحفظ وعقد المعاوضة يقتضي سلامة المعقود عليه عن العيب فيكون المستحق بالعقد حفظا سليما عن العيب الذي هو سبب الهلاك؛ لأنه لا يمكنه العمل إلا بالحفظ۔۔۔ وبقولهما يفتى اليوم لتغير أحوال الناس وبه تحصل صيانة أموالهم۔ (تبيين الحقائق، كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، ج:6، ص:137)