بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
مناسخہ کی ایک صورت
سوال
عبد الحمید کا انتقال ہوچکا ہے۔ اس کے ورثا میں دو بیویاں کلثوم اور کائنات اورچھ بیٹےنعمان،ابوبکر،عزیر،انس،دانیال اور حذیمہ اورچار بیٹیاں مریم،عائشہ،حفصہ اور زینب ہیں۔ پھر کائنات کا انتقال ہوا اور اس کے ورثا میں تین بیٹےانس، دانیال اور حذیمہ اوردو بیٹیاں حفصہ اور زینب موجودہیں،عبد الحمیدمرحوم کا ترکہ مذکورہ ورثاء میں کس حساب سے تقسیم ہوگا؟
جواب
میــــــ(عبد الحمید)ـــــــــــ(128)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیوہ بیوہ بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
کائنات کلثوم نعمان ابوبکر عزیر انس دانیال حذیمہ مریم عائشہ حفصہ زینب
8 14 14 14 14 14 14 7 7 7 7
میــــــــــــ(کائنات)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی
انس دانیال حذیمہ حفصہ زینب
2 2 2 1 1
الاحیـــــــ(128)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــاء
کلثوم نعمان ابوبکر عزیر انس دانیال حذیمہ مریم عائشہ حفصہ زینب
8 14 14 14 16 16 16 7 7 8 8
بشرط صدق وثبوت اگر عبد الحمید کے مذکورہ بالا ورثاء کے علاوہ اور کوئی قریبی وارث زندہ موجود نہ ہو اور اموات بھی درجہ بالا ترتیب سے ہوں ،تو بعد از ادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ ایک سو اٹھائیس (128)برابرحصوں میں تقسیم ہو کر کلثوم کو8/128حصے،نعمان ،ابوبکراور عزیر میں سے ہر ایک کو14/128حصے ،انس ،دانیال اور حذیمہ میں سے ہر ایک کو16/128حصے،مریم اور عائشہ میں سے ہر ایک کو7/128،جبکہ حفصہ اور زینب میں سے ہر ایک کو8/128حصے ملیں گے۔
قال الله تعالى:﴿ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فوْقَ اثنتَيْنِ فلَهُنَّ ثلُثَا مَا ترَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فلَهَا النِّصْفُ﴾ (النساء:١١)
وقال:﴿ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا ترَكْتُمْ مِنْ بعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ﴾ (النساء:١٢)