بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ریگزین کے موزوں پر مسح کرنے کا حکم


سوال

سابقہ  فتوی میں شرائط جرابوں کی ذکر کی ہیں اور موزوں کے بارے میں لکھی گئیں ہیں معذرت کے ساتھ دوبارہ نظر ثانی یا وضاحت کریں ۔

جواب

واضح رہے کہ خف سےمراد چمڑے  یا چمڑے   کی طرح دوسری چیز سے بناوہ موزہ ہے جو ٹخنوں  کو ڈھانپے  ۔فقہاے کرام نے چمڑے کی صفات کو مدنظر رکھ کر مسح کے جواز کے لیے درجہ ذیل شرائط مقررکیے ہیں :

(1) ایسے گاڑھے ( موٹے) ہوں کہ ان میں پانی نہ  چھنے یعنی اگر ان پر پانی ڈالا جائے تو پاؤں تک نہ پہنچے۔

(2)اتنے مضبوط ہوں کہ  بغیر جوتوں کے بھی اس میں تین میل پیدل چلنا ممکن ہو ۔

(3)وہ کسی چیز سے باندھے بغیر اپنی موٹائی اور سختی کی وجہ سے پنڈلی پر قائم رہ سکیں ۔

جرابوں میں بھی بنیادی طور پر انہی شرائط کی رعایت ضروری ہے ۔فتوی نمبر 321/297/9015 میں سائل نے سوال میں جن  چائنہ موزوں کا ذکر  کیا ہے چونکہ وہ صفات کے لحاظ سے موزوں کے بجائے   جرابوں  سے زیادہ مشابہہ ہیں ۔اس لیے اس فتوی میں  جوربین ثخینین  کی شرائط ذکر کی گئیں ہیں ۔

 

والخف ‌شرعا: ‌الساتر للكعبين فأكثر من جلد ونحوه ۔( ردالمحتار على الدر المختار ، كتاب الطهارة ، باب المسح على الخفين ، ج:1،ص:434)

ذكر قاضي خان في فتاواه ‌ثم ‌الخف ‌الذي ‌يجوز المسح عليه ما يكون صالحا لقطع المسافة والمشي المتتابع عادة ويستر الكعبين وما تحتهما وما ليس كذلك لا يجوز المسح عليه ثم قال ويجوز المسح على الخف الذي يكون من اللبد، وإن لم يكن منعلا؛ لأنه يمكن قطع المسافة به وفي الخلاصة، وأما المسح على الخفاف المتخذة من اللبود التركية فالصحيح أنه يجوز المسح عليه.( البحرالرائق، كتاب الطهارة، باب المسح على الخفين،ج:1،ص:189)

وأما ‌المسح ‌على ‌الجوربين، فإن كانا مجلدين، أو منعلين، يجزيه بلا خلاف عند أصحابنا وإن لم يكونا مجلدين، ولا منعلين، فإن كانا رقيقين يشفان الماء، لا يجوز المسح عليهما بالإجماع، وإن كانا ثخينين لا يجوز عند أبي حنيفة وعند أبي يوسف، ومحمد يجوز.

وروي عن أبي حنيفة أنه رجع إلى قولهما في آخر عمره، وذلك أنه مسح على جوربيه في مرضه، ...ولأبي حنيفة أن جواز المسح على الخفين ثبت نصا، بخلاف القياس، فكل ما كان في معنى الخف في إدمان المشي عليه، وإمكان قطع السفر به، يلحق به.(بدائع الصنائع، كتاب الطهارة ،المسح على الجوارب ،ج:1،ص:10)


فتویٰ نمبر : 10048/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور