بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
عورت کے نیچے دب کر بچے کا مرنا
سوال
سوئے ہوئے کسی عورت کی غفلت کی وجہ سے بچہ اس کے نیچے دب کر مر جائے تو کیا کفارہ لازم ہو گا یا نہیں ؟
جواب
کسی بچے کا سوئے ہوئے کسی انسان کی کروٹ کے نیچے آکر مر جاناقتل جاری مجری خطا ہے ، اس میں اگرچہ قتل کا گناہ نہیں ، لیکن عاقلہ پر دیت اور جس کے نیچے دب گیا اس پرکفارہ لازم ہوگا ۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر بچہ ماں کے نیچے آ کر مر جائے تو ماں پر کفارہ لازم ہے جو کہ مسلسل دو مہینے روزے رکھنا ہے، تاہم درمیان میں حیض کے ایام اس تسلسل میں مخل متصور نہیں ہو تے۔
(و) الرابع (ما جرى مجراه) مجرى الخطأ (كنائم انقلب على رجل فقتله) لأنه معذور كالمخطئ (وموجبه) أي موجب هذا النوع من الفعل وهو الخطأ وما جرى مجراه (الكفارة والدية على العاقلة) والإثم دون إثم القاتل إذ الكفارة تؤذن بالإثم لترك العزيمة.( ردالمحتار على درالمختار ، كتاب الجنايات،ج:٦،ص:٥٣١)
(وكفارتهما) أي الخطأ وشبه العمد (عتق قن مؤمن فإن عجز عنه صام شهرين ولاء ولا إطعام فيهما).( ردالمحتار على درالمختار، كتاب الديات،ج:٦،ص:٥٧٣)