بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
ہسپتال میں زکوٰۃ کی رقم استعمال کرنے کا طریقہ
سوال
جامعہ عثمانیہ پشاور نے خدمت خلق کے جذبہ سے معاشرہ کے مستحق و نادار لوگوں کومعیاری علاج و معالجہ مفت فراہم کرنے کی نیت سے عثمانیہ ہیلتھ کلینک (U.H.C)کے نام سے ایک کلینک کا باقاعدہ آغاز کیا ہے ،اس کلینک میں مستحق اور نادار مریضوں کو ڈاکٹر کے چیک اپ ،لیباٹری ٹیسٹ اور ادویات وغیرہ کی تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی،اس کلینک میں معاشرہ کے درد دین رکھنے والے صاحب حیثیت لوگوں کی زکوٰۃ و صدقات اور عطیات خرچ ہوں گی ،جہاں تک نفلی صدقات و عطیات کا تعلق ہے چونکہ ان کے خرچ کرنے میں وسعت ہے اس لیے اس کے حوالے سے خرچ کرنے میں آسانی رہے گی تاہم زکوٰۃ یا صدقات واجبہ کی مد میں جو رقم عثمانیہ ہیلتھ کلینکU.H.C) (کو مریضوں پر خرچ کرنے کے لیے چندہ کی صورت میں حاصل ہو گی اس کے خرچ کرنے کے لیے شرعی لحاظ سے صحیح طریقہ کار کی رہنمائی کی ضرورت ہے کہ خدانخواستہ کہیں زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ کسی غفلت یا کوتاہی یا نظم کی کمزوری کی وجہ سے ان کے ذمے پر باقی نہ رہ جائے اس لیے دار الافتاء سے یہ گزارش ہے کہ وہ ایک ایسا قابل عمل طریقہ تجویز فرمائے کہ جس پر عمل کرتے ہوئے مستحقین پر زکوٰۃ کی رقم اس طرح خرچ ہو کہ اس میں زکوٰۃ دینے والوں اور زکوٰۃکے خرچ کے لیے نمائندہ بننے والے عثمانیہ ہیلتھ کلینک کے ذمہ داران دونوں کا ذمہ عنداللہ اچھی طرح فارغ ہو سکے؟
جواب
احادیث مبارکہ میں مخلوق خدا کو اللہ سبحانہ و تعالی ٰ کا عیال یعنی کنبہ کہا گیا ہے اور اللہ کے عیال سے حسن سلوک کرنے کو اللہ تعالیٰ کے محبوب بننے کا ذریعہ اور وسیلہ بتایا گیا ہے اس لیے بیماروں کے علاج کرنے، ان کی عیادت کرنے اور ان کے ساتھ دکھ درد بانٹنے کے عمل پر قرآن و حدیث میں بہت زور دیا گیا ہے،بالخصوص وہ مریض جو اپنی لاچاری اور غربت کی وجہ سے معیاری علاج معالجہ کی سہولت سے محروم ہو ں ان کے لیے فکر مند ہونا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی مہربانی حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ زکوۃیا صدقات واجبہ کی رقم صحیح مصرف پر صحیح طریقے سے خرچ کرنا ضروری ہے ورنہ اگر مصرف صحیح نہ ہو یا اس پر خرچ کرنے کا طریقہ صحیح نہ ہو تو خرچ کرنے کے باوجود ذمہ فارغ نہیں ہو گا۔ زکوٰۃاور صدقات واجبہ کے خرچ کرنے میں شریعت کا ایک اہم حکم یہ ہے کہ فقراء و مساکین کو اس کا مالک بنایا جائے ،چنانچہ مالک بنائے بغیر ان پر خرچ کرنے سے زکوۃادا نہیں ہوتی۔
صورت مسئولہ میں عثمانیہ ہیلتھ کلینک کے لیے جو لوگ زکوٰۃ یا صدقات واجبہ کی مد میں رقم فراہم کریں مستحق مریضوں پر اس رقم کو خرچ کرنے کے لیے درجہ ذیل صورت تجویز کی جاتی ہے جس میں ان شاء اللہ آسانی بھی ہو گی اور رقم میں تملیک کا تصور بھی باقی رہے گا۔
سب سے پہلے مریض کے بارے میں یہ اطمینان کروایا جائے کہ وہ واقعتا مستحق ِزکوٰۃ ہے ۔ اس مقصد کے لیے مریض کے پڑوس میں رہنے والے سنجیدہ، ذمہ دار اور دین دار لوگوں یا محلہ کی مسجد کے امام و خطیب کی تصدیق کو معیار بنایا جا سکتا ہے ۔اس کے بعد جب کسی مریض کے بارے میں یقینی طور پر یا ظن غالب سے یہ معلوم ہو کہ وہ زکوٰۃکا مستحق ہے تو جب وہ کلینک میں علاج کے لیے آئے تو کلینک اُسے تمام علاج معالجہ کی سہولیات اور ادویات وغیرہ قیمتا فراہم کرے یعنی ڈاکٹر فیس ،لیباٹری ٹیسٹ، اور ادویات وغیرہ کے تمام اخراجات اس کے ذمے لاگو کئے جائیں، پھر جب ڈاکٹر اس کامعائنہ کرے، لیباٹری میں اس کے ٹیسٹ ہو جائیں اور اس کو ادویات دے دی جائیں تو اس کے ذمے مجموعی طور پر جو رقم بن جائے اس رقم کی اس سے توکیل لی جائے یعنی وہ کلینک کے کسی ذمہ دار فرد کو اپنا وکیل بنا دے کہ اس مقدار میں تم میرے لیے زکوٰۃ کے فنڈ سے وصول کر کے میری طرف سے اِن اخراجات کی مد میں کلینک میں جمع کر دو۔ یہ توکیل زبانی بھی ہوسکتی ہے تاہم بہتر ہو گا کہ تحریری طور پر توکیل لی جائے،مثلا اس کے علاج معالجہ پر دو ہزار روپے خرچ ہوئے تو وہ کلینک کے منیجر کو اس بات کا وکیل /نمائندہ بنا دے کہ وہ اس کے لیے زکاۃ کی رقم میں سے دوہزار روپے وصول کر کے اس کی طرف سے کلینک میں جمع کرا دے ،اس طرح جب وہ ذمہ دار فرد اُسی مقدار میں رقم زکوٰۃ فنڈ سے وصول کر کے کلینک میں جمع کر دے گا تو زکوٰۃادا کرنے والے کا ذمہ فارغ ہو جائے گا اور زکوٰۃ خرچ کرنےکے لیے جن کو وکیل اور نمائندہ بنایا گیا تھا ان کی ذمہ داری بھی انشاء اللہ فارغ ہو جائے گی۔
اگرمریض بچہ ہو تو اگر بچہ سمجھ دار ہو اور وہ خود وکیل/ نمائندہ بنا سکتا ہو تو خود ہی بنا دے گا ،البتہ اگر بچہ ناسمجھ ہو تو اس کا سرپرست اس کی طرف سے توکیل کی ذمہ داری نبھائے ،اور نمائندہ ان کی طرف سے رقم کلینک میں جمع کرا دے۔
قال الله تعالى:اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(التوبة،60)
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر۔(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الزكوة،ج:3ص:291)
الزكاة يجب فيها تمليك المال؛ لأن الإيتاء في قوله تعالى {وآتوا الزكاة} يقتضي التمليك۔(تبيين الحقائق،كتاب الزكاة،ج:1ص:251)
ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه۔(الفتاوى الهندية،كتاب الزكاة،ج:1 ص:250)
وكذلك في جميع أبواب البر التي لا يقع بها التمليك كعمارة المساجد وبناء القناطر والرباطات لا يجوز صرف الزكاة إلى هذه الوجوه۔(الفتاوي الهندية،كتاب الحيل،ج:6ص:392)
ولو قضى دين حي فقير إن قضى بغير أمره لم يجز؛ لأنه لم يوجد التمليك من الفقير لعدم قبضه وإن كان بأمره يجوز عن الزكاة لوجود التمليك من الفقير؛ لأنه لما أمره به صار وكيلا عنه في القبض فصار كأن الفقير قبض الصدقة بنفسه۔(بدائع الصنائع،كتاب الزكاة،ج:2ص:457)
إذا دفع الزكاة إلى الفقير لا يتم الدفع ما لم يقبضها أو يقبضها للفقير من له ولاية عليه نحو الأب والوصي يقبضان للصبي والمجنون كذا في الخلاصة۔۔۔ولو قبض الصغير، وهو مراهق جاز۔(الفتاوى الهندية،كتاب الزكاة،ج:1ص:190)