بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
اے كے آر ایس پی (AKRSP)کے پراجیکٹ سے استفادہ کرنا
سوال
ہمارے علاقےمیں اے کے آر ایس پی(AKRSP) کے نام سے آغا خانیوں کی زیرنگرانی ایک این جی اوہےجو ترقیاتی کام کراتے ہیں ۔یعنی روڈ،بجلی گھر وغیرہ ۔ان میں جو پیسے لگتے ہیں وہ آغاخانیوں کے ہوتے ہيں ،اب تک علمائے کرام ميں سے بعض اس کو جائز کہتے ہیں اور بعض ناجائز کہتے ہیں اسی وجہ سے عوام میں بھی انتشار پیدا ہوا ہے ۔آپ صاحبان رہنمائی فرمائیں كہ کیا ان پراجیکٹ سے استفادہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے کفار کی جانب سے کوئی بھی ایسی امداد وصول کرنا جائز نہیں جس سے دینی، ایمانی اور مذہبی نقصان ہوتا ہو اور اسلام کی شان و شوکت متاثر ہوتی ہو ،یا اسے اختیار کرنے سے صحیح عقائد میں شبہات پیدا ہوتے ہوں یا وہ ادارہ رفاہی کاموں کی آڑ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش میں مصروف ہو،یا ان کامقصد مسلمانوں کے دلوں میں اپنے مذہب کی محبت ،اپنے لیے ہمدردی پیدا کرنا ہو اور ایسے کاموں سے ان کو تقویت ملتی ہو۔
صورت مسؤلہ میں علاقے کے معتبر و سمجھدار علماء کرام سے معلوم کیا جائے، اگر ان کی نظر میں مذکورہ ادارے کے پراجیکٹ مسلمانوں کے عقائد پر اثرانداز ہوتے ہوں یا ان کا مقصد مسلمانوں کے خلاف سازش کرنا ہو یا ان کی امدادی کاموں کی وجہ سے مسلمانوں کے دلوں میں ان کے مذہب کی محبت اور ا ن کے لیے ہمدردی پیدا ہوتی ہو ،تو ایسی صورت میں ان سے امداد وصول کرنا جائز نہ ہوگا ،البتہ اگر علاقے کے معتبر علماء کرام کی رائے یہ ہو کہ ا ن کا مقصد صرف انسانیت کی خدمت ہے اور کوئی منفی اثرات نہیں تو ایسی صورت میں ان سے امداد لینے کی گنجائش ہے۔
قال الله تعالى: وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ۔ (المائدة:2)
فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمَٰنَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٖ إلخ. واستدل بالآية على استحباب رد هدايا المشركين.والظاهر أن الأمر كذلك إذا كان في الرد مصلحة دينية لا مطلقا.(روح المعانى،سورة النمل/36، ج:19، ص:200)
ويصح وقف المرتدة لأنها لا تقتل وأما الإسلام فليس من شرطه فصح وقف الذمي بشرط كونه قربة عندنا وعندهم. (البحرالرائق، كتاب الوقف، شرائط الوقف، ج:5، ص:316)