بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

گزشتہ سالوں کی زکوۃ کی ادائیگی کا حکم


سوال

میری دکان کو تقریبا ً آٹھ سال ہوگئے ہیں اور ابھی میں باقاعدگی سے زکوۃ ادا کرتا ہوں لیکن شروع کے تین چار سالوں میں نصاب کے بقدر مال ہونے کے باوجود  لاعلمی کی وجہ سے زکوۃ ادا نہیں کی تھی ،اب میں ان تین چار سالوں کی زکوۃ ادا کرنا چاہتا ہوں  لیکن کس طریقے سے   ادا کروں شرعی رہنمائی فرمائیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے نماز کےبعد سب سے زیادہ اہمیت زکوۃکو حاصل ہے ۔زکوۃ ادا نہ کرنے والوں پر قرآن و حدیث میں وعید آئی ہے ۔اگر کہیں کوئی شخص صاحب نصاب ہونے کے باوجود لاعلمی یا غفلت کی وجہ سے  زکوۃ ادا نہ کرے  تو زکوۃ اس کے ذمے باقی رہتا ہے جب تک اس کو ادا نہ کرے ۔ البتہ اگر کسی شخص کے ذمے گزشتہ  کئی  سالوں کی زکوۃ باقی ہو اور ابھی ادا کرنا چاہتا ہے اور اس کو گزشتہ سالوں کی مالیت  معلوم نہ ہو تو غالب گمان کے مطابق اندازہ لگا کر اس سے ڈھائی فیصد زکوۃ ادا کرے ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر سائل کے ذمے شروع کے سالوں کی زکوۃ باقی ہو لیکن  ان  سالوں کی مالیت معلوم نہ ہو توغوروفکر کر کے ایک محتاط اندازہ لگا لے اور  اس  کے مطابق زکوۃ ادا کرے۔نیز اس کے ساتھ استغفار  بھی کرتا رہے کہ اگر لاعلمی و غفلت سے کچھ کمی رہ گئی ہو تو اللہ تعالی اسے معاف کر دے۔

 

وأما أكبر الرأي وغالب الظن فهو ‌الطرف ‌الراجح ‌إذا ‌أخذ ‌به ‌القلب، وهو المعتبر عند الفقهاء كما ذكره اللامشى فى أصوله  وحاصله: أن الظن عند الفقهاء...وغالب الظن عندهم ملحق باليقين، وهو الذى يبتنى عليه الأحكام يعرف ذلك من تصفح كلامهم فى الأبواب، صرحوا فى نواقض الوضوء بأن الغالب كالمتحقق، وصرحوا فى الطلاق بأنه إذا ظن الوقوع لم يقع، وإذا غلب على ظنه وقع.(الأشباه والنظائر، خاتمه، الفائدة الثانية، ص:37)


فتویٰ نمبر : 10049/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور